پوسٹ – 2020-08-05

ٹھیک اور بھی ٹھیک سوال کرنا ایک اچھے کمیونیکیشن کی علامت ہےn غلط سوال، ہمیشہ غلط جواب کا موجب بنتا ہے
اسی طرح۔
ڈسٹریکشنز کی موجودگی میں۔
ٹھیک سوال کو غلط وقت پہ، غلط تناظر میں، غلط شخص سے پوچھنا بالکل بے ثمر ہوتا ہےnnدرج زیل نکات کو اپنا کر سوال پوچھنے کی تمیز سیکھی جا سکتی ہے۔nnخطیبانہ انداز، یعنی دباو /اثر ڈالنے والے انداز میں سوال مت پوچھیں،
دوستانہ انداز اپنائیں
بے جا اور ہر بات پر، سننے والے کو کٹہرےمیں کھڑا مت کیجیے
لوڈڈ سوال یعنی جن کا جواب، ہاں یا ناں میں ہو ،مت کیجیے، nجواب دینے والے کا شکریہ ادا کیجیے
گفتگو کے دوران ذہنی تناو سے بچیں، کہ ذہنی دباو ہمیشہ ناقص جوابات کی طرف لے جاتا ہے۔
بہت زیادہ براہ راست ہونے سے گریز کیجیے
شعوری طور پر، دوسرے کو سننے کی خواہش رکھیئے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.