ماہرین نفسیات کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن تو نہیں ، بقول ایک پی ایچ ڈی سائیکولوجی کے ، ذہنی عارضوں کی میڈیسنز کی ، صنعت کھربوں روپے کی ہے ، ان دوائیوں کی افادیت سے انکار نہیں ، پر ، ایک لمحے کو سوچیں کہ ، اگر ، دنیا سے نفسیاتی امراض ختم ہوگئے ہیں تو کیا خیال ہے ؟ جس نے ساری زندگی اس کام میں لگا دی ہو ، کہ ، دو تین بار کی ملاقات میں ، چار کتابوں سے ، اس کی نفسیات پر فیصلے دیتا ہو ، nاس شخص کے پلے کیا رہ جائے گا ؟
اس کی روزی روٹی کا کیا ہوگا ؟
وہ کیسے ، ذہنی امراض کی دوائیاں لکھ لکھ کر ، پیسے کمائے گ
ا ( سب نہیں ہوتے ہوں گے ایسے ، پر اکثر کا یہی سین ہوتا ہے )nکیا وہ خود نفسیاتی مریض نہیں بن جائے گا ؟
کہ بھوک بہرحال ،عقل مار دیتی ہے
پوسٹ – 2020-08-03
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد