اس سوسائٹی میں اکثر اوقات، جو شخص انفرادی طور پر، پڑھائی، اسکل سیٹ، مشاہدہ، عملیت یا تجربے کے لحاظ سے زیرو ہو، کوئی کانٹری بیوشن نہ ہو
اس کی اجتماعیت کے حق میں نعرے بازی سب سے زیادہ پر جوش ہوتی ہے۔
سب سے زیادہ قوم قوم امت امت وہ چلا۔ رہا ہوتا ہے
ایسے ہر شخص سے پوچھناچاہئے،
تم ملک و قوم کے مامے خاں بعد میں بننا پہلے یہ بتاو تم نے خود کرنے لوگوں کو کسی سکل سیٹ، پروفیشنل سطح یا نظریے پر تیار کیا ہے
وہ بغلیں جھانکنے لگے گا۔
پھر پوچھو، اچھا یہ بتاو nمطالعہ کتنا کرتے ہو
بہہ جائے گا اس کا۔ سارا نظریہ
چور ہجوم میں مل کر شور صرف خود سے توجہ ہٹانے کے لیے کرتا ہے
اسی طرح اس دور میں، اجتماعیت/ٹیم ورک/امت/ حب الوطنی اور مزہب یا کوئی بھی نظریہ فروخت کر کے ، قوم قوم کرنے والے ، اندر کا سناٹا اور کھوکھلا پن چھپاتے ہیں۔
اخبار بینی/نیوز ریڈنگ۔ کچرا چننے میں آتی ہے مطالعہ میں نہیں
نوٹ: محض ، آخری لائن پر تبصرہ کرکے پوسٹ کو سچ ثابت کیجیے پلیز
پوسٹ – 2020-08-01
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد