سن دوہزار دو میں ، لیاری کے کسی کالج میں ، کسی کام سے جانا ہوا ، پتا نہیں ، سینٹر پڑا تھا یا کیا ، یاد نہیں ، پر اتنا پتا ہے ، کوئی آفیشل کام ہی تھا ، کیوں کہ ، کسی قسم کی کوئی تنظیمی جراثیمی بیماری کسی دور میں ںہیں رہی ، سو، اپن سولو فلائٹ ہی رہا ہے ، میراخیال ہے کوئی نصابی کام ہی ہوگا۔
سو بہرحال ،
وہاں کی دیوار پر یہ شعر لکھا تھا
ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ
اس وقت یہ تصور ذہن میں آیا کہ ،
یہ دوتنظیموں کے جھگڑے ، میں ایک نے دوسرے کو کوٹ کوٹ کر نکالا ہوگا
اور ایک تنظیم کا کارکن ، تھوڑا ادبی ہوگا ، ہو سکتا ہے ، اس کے منہ ہی منہ پر تھپڑ پڑ رہے ہوں
سر پر ٹیوب لائٹس ٹوٹ رہی ہوں ،
اور وہ ، مار کھاتا کھاتا
یہ کہتا ہو
سن سن
بات سنو بھائی
وہ وہ میرا مطلب ہے کہ nمیں روح سفر
تراخ nدھپ دھپ nہمیں نام سے نہیں پہچان nاوغ ، آہ nکل کسی اور
آہ ، اوہ آرام سے ۔
بات سن اوئے ایک دم ، رستے لہو ، چہرے کو ڈھانپے ، گرد آلود ، ذلت آمیز کچرے کے بیچوں بیچ اس کی وحشت بھری آواز میں یہ شعر نکلا ہوا
ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ
اور اس کے بعد ، جس تنظیم نے کلیش کر کے ،نظریے کے نام پر ، کوٹ کوٹ کر ، دوسری تنظیم کو نکالا تھا ، اس کے سرکردے نے ، شکست خوردہ شاعر صفت ، لیڈر کو ، آخری ٹھدا مار کر یہ کہا ہو
کیا ہم سے بچو گے کہ جدھر جائیں گی نظریں
اس آئنہ خانے میں جھلک جائیں گے ہم لوگ
پوسٹ – 2020-05-30
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد