پچانوے کے بعد کی پیدائیش اکثر سے کہیں زیادہ بدتمیز ملے گی, یہ صرف, ان کا فالٹ نہیں, انہیں رکھا ہی ایسا گیا ہےn, ہاں شاذ شاذ کوئی اس ایج گروپ کا, تمیز دار مل جائے تو اس کی قدر کریں, اسے اس کے ہم عمر افراد سے بچا کر رکھیں۔
جیسے چارلس ایکزیویر , چن چن کر میوٹنٹ بچوں کو الگ اسکول میں لے جاتا ہےnnتو یہی سمجھ لیں ، انیس سو پچانوے کے بعد ، سے پیدا ہونے والی ، نسل کے ، خال خال ، تمیز دار اور باادب ، افراد بھی “خدائی کرشمہ ” اور گفٹڈ چالئڈ ہیں ۔nnچارلس ایکزیویر والی لائن سمجھ نہ آئے تو ، اگنور کردیں ، پھر بھی ، سوال کرنے کو دل مچلیں تو ، بس اتنا سمجھ لیں یہ ، ایکس مین ، نامی ، فلم فرنچائز میں موجود ایک ، افسانوی اسکول ہے ، جس میں ، خصوصی قسم کے ہونہار بچوں کو ، جن ک پاس، سپیشل پاورز ہوتی ہیں ، انہیں ، عام دنیا کی آنکھوں سے بچا کر ، آنے والے ادوار اور مصائب کے لیے ٹریننگ دی جاتی ہے nموضوع چھوڑ کر ، مدعا کو سائیڈ کر کے ، پھر بھی سوال کلبلا رہا ہو تو
ایکس مین سیریز کی ، فلمیں دیکھ لیں nاور اتنا ٹائم نہیں ، لیکن سوال پھر بھی کرنے ہیں تو
گوگل پرnXavier’s School for Gifted Youngsters nnلکھ کر پڑھ لیں nیہ بھی نہیں کرنا تو پھر ، nکنفرم لعنتی ہے ، والی پتہ نہیں کیا چیز ہے ، وہ سن لیں n:D
پوسٹ – 2020-05-19
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد