پاکستانی عورت ، کو ماننا پڑے گا کہ ، nمرکز ، مرد ہوتا ہے ، nمرد کو سمجھنا پڑے گا کہ ، nوہ مرکز اس لیے نہیں کہ ، مرد ہے nوہ مرکز ہے ، اس لیے مرد ہے ۔
یعنی اسے ، جو ذمے داریاں دی گئی ہیں ، ان کو سختی سے نبھانے پورا کرنے لیڈ کرنئ کی اہلیت اسے مرد بناتی ہے ، کچھ ایکسٹرا اور ڈفرنٹ آرگنز نہیں ، nوہ تو کتے میں بھی ہوتے ہیں ، لول nبہرحال ، nاور عورت کو سمجھنا پڑے گا
وہ پہلے اطاعت ہے ، پھر راحت ہے ، اس کے بعد ، حقوق کی طلبگار کہلانے کی اہل ہے ۔nnوہ کائنات کی شاعری اس لیے نہیں کہ ، عورت ہے nوہ ، راحت ہے ، وہ کائنات کی شاعری ہے ، اس لیے عورت ہے ، nایکسٹرا اعضا تو گائے میں بھی ہوتے ہیں nفنکنشن اور اعضا دونوں n(عورت کے لیے ، مسز ڈوگی لکھنا اچھا نہیں لگا) پر
آئی ایم شیور، کیفیت پوری پوری پہنچی ہوگی لولnnبہرحال nجب تک ، یہ دونوں خود کو نہیں سمجھیں گے ، nمعاشرے میں ، زنانے ، مردانے ، مکس اینڈ میش، بڑھتے رہیں گے
پوسٹ – 2020-05-17
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد