پوسٹ – 2020-03-06

تخلیقی صلاحیت، لکھنا، اور کام چوریnnآپ کا تحت الشعور ،تخلیقی طور پر بھی ایک آٹو پائلٹ میکنزم کی طرح کام کرتا ہے
ہمارا پرابلم یہ ہے کہ ہم تقریبا تمام مسائل کا حل شعوری تگ ودو سے چاہتے ہیںnnقوت ارادی کے بل بوتے پر چاہتے ہیںn اور اس کوشش میں ہم، بے جا طور پر، ذہنی دباو کا ایک ، اژدھام ، شعور میں برپا کرتے چلے جاتے ہیں۔nnہمیں یہ سیکھنا پڑے گا کہ ہم اپنے تمام تخلیقی مسائلn یعنی nلکھا نہیں جا رہا، کیفیت نہیں آرہی وغیرہ وغیرہ جیسی چیزیں ، اپنے آٹو پائلٹ یعنی لاشعور کو ،کیسے تفویض یعنی اسائن کریں۔nnآگہی اس معاملے میں بھی نرا عذاب ہی ہے۔n یہ معلوم ہونا کہ مجھے لکھنے کے لیے کیفیت درکار ہے بذات خود کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں
لیکن اس پر ثابت قدم رہنا اور اس کو سوچتے جانا بلکہ اس کو لکھنے کی بنیادی ضرورت باور کروا کر خود کو لکھاری بھی قرار دینا یہ مسئلہ ہے nلکھنے کا تعلق موڈ سے ؟
نہیں لکھنے کا تعلق موڈز نہیں ہے مشق سے ہےn وہ آپ اصل میں کام چور ہیں nنہ آپ نے پڑھنا ہےn نہ آپ نے سوچنا ہےn نہ آپ نے لکھنا ہے nنہ آپ نے لکھنے کی پریکٹس کرنے کو روزمرہ کی عادت بنانا ہے موڈ کتھوں آئےnnیہ غلط کانسیپٹ ہے کہ سب تخلیقی لوگ سست ہوتے ہیںnnموڈ چلتے ہیں
بھئی ہوتا ہوگا کوئی کوئ ،جس کے اوقات (وقت ) میں اللہ نے برکت دی ہوگی۔
آپ چاہیں تو آپ بھی یہ کام کر سکتے ہیںn لیکن چاہیں تب ناn آپ تو چاہت کے لئے بھی کیفیت کا انتظار کرتے ہیں۔
تو مسئلہ یہ تخلیق یا لیفٹ اور رائٹ برین کا نہیں ہے
مسئلہ مستقل کوشش کرنے nمشق کرنے پڑھنے پڑتے چلے جانے 25 پیج پڑھ کر دو پیج لکھنے
آپ کو بھرنے سے پہلے نکالنے کی جلدی ہےn اب پورا بھریں گے نہیں اور زیادہ نکالیں گے تو کتنا نکالیں گے
ذرا چھلکنے کے لیول تک پہنچ کر دیکھیں تو سہی ۔۔nn یہ ساری ڈرامے بازیاں کے لکھاری حساس ہوتا ہے nہر کوئی نہیں لکھ سکتا nnآپ اس کو یوں کہہ لے کہ بھئ میں لکھا ری بننا چاہتا ہوں،n لیکن میں محنت نہیں کرنا چاہتا ،
میں چاہتا ہوں کوئی فرشتہ اوپر سے آئے اور میرا تخیل ایکٹیویٹ کردیا کرے۔ nکیوں ؟
کیوں کہ بنیادی طور پر آپ ایک کام چور ہیںn آپ کا دل ہی نہیں کرتا کام کرنے کا ، nلکھنا آرٹ بعد میں ہے، کام پہلے ہے۔
اسی لئے آپ کو جتنے بھی لکھاری نظر آئیں گے وہ اکثر نامردی کی حد تک مرنجان مرنج یا گلابی ٹائپ کے ملیں گے nکیوں ؟ nبھئی ہم تو موڈ پر کام کرتے ہیں nموڈ سوئنگ تو عورت کے ہوتے ہیں
تو بات دراصل یہ ہے
مستقل شعوری طور پر یہ سوچتے چلے جانا کہn’زندگی کے بہت سے مسائل کا کیا حل ہے’n یہ بذات خود ایک مسئلہ ہے اور ذہنی دباؤ کا سبب ہے
کیونکہ یہ عمل ہمیں بے چین کرتا ہے ، غیر ضروری طور پر گمان، کے لپیٹے میں لیتا ہے، ہمیں بے جا محتاط کرتا ہے۔nn جس کی وجہ سے خوف ، سر اٹھاتا ہےnnاسی لیے تخلیقی معاملات خاص طور پر لکھنے کے معاملے میں بار بار شعور کی سننے کے بجائے ۔
لیٹ اٹ گو کرنا سیکھئے ۔n یعنی لکھنے کی فکر کو جانے دیجیے ، nاپنے تحت الشعور پر اعتبار کیجئے۔n اپنے سب کانشیئس رائٹر پر بھروسا کیجیےnnاب یہ کیسے ہوتا ہے ؟nnمستقل مزاجی سے، کیا آپ جانتے ہیں مستقل مزاجی کس کا الٹ ہے، جی ہاں nغیر مستقل مزاجی کاnnکیا آپ جانتے ہیں کہ غیر مستقل مزاجی کا دوسرا نام کیا ہے
موڈ سوئنگ n3:)

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.