پوسٹ – 2020-03-06

لکھنے کی تحریک سے متعلق چند ںاتیں۔nnاپنے تحت الشعور پر اعتبار کیجیےnn ‘ جینیس ‘ / ذہانت ایک عمل ہے، نہ کہ کوئی ذاتی جائیداد،
یہ ہر کسی کے پاس ہوسکتا ہے۔n لیکن ہم کثر اوقات اپنی ذہنی رو کے بیچ روڑے خود اٹکاتے ہیں ، محض بے چینی، ڈپریشن، اور غیر ضروری طور پر انتھک کوشش کرکے ،
یعنی، کیسے لکھوں ،کیا لکھوں، انسپریشن نہیں آرہی ، کیفیت نہیں بن رہی جیسی باتیں کر کے،خود پر لکھنے کا پریشر ڈال کر۔nnہمیں اپنا آپ ، اپنے لاشعور کے حوالے کرنا چاہیے، الفاظ, تخلیق کی گہرائیوں سے تلاطم بن اٹھیں گے۔nnںرٹنڈر رسل نامی فلسفی کہتا ہے۔nnاگر مجھے ،کسی مشکل موضوع پر طبع آزمائی کرنی ہے ،
تو ایک بہترین منصوبہ یہ ہے کہ میں، اس موضوع کے بارے میں چنڈ گھنٹے یا کچھ روز شدت کے ساتھ سوچنا شروع کردوں، اور جب لکھنے کا وقت آنے لگے، تو اپنے دماغ/تحت الشعور کو آرڈر دوں، کہ اب پراگریس کا وقت ہے، کام کو زیر زمین ،آگے بڑھنا چاہئے یعنی لاشعور میں یہ بات انجیکٹ کرتا رہوں کہ ،لکھنے کا وقت آنے والا ہے اور مستقلا اس موضوع بارے سوچتا رہوں، موضوع بارے، لکھنے بارے نہیں۔nnپھر جب میں ،واقعتا لکھنے کے لیے، کچھ ماہ بعد اس موضوع کا رخ کروں گا ،یعنی پورے شعور کے ساتھ ،تو میں یہ دیکھوں گا میرے لاشعور میں وہ کام مکمل ہوچکا ہے ، یعنی وہ موضوع بالغ ہو چکا ہے۔۔جب یہ طریقہ دریافت نہیں کیا تھا تو ، میں وہ تمام مہینے نے یہ سوچتے ہوئے پریشان رہتا تھا کہ میں، کوئی پروگرس نہیں کر رہا
اور یہ سوچنے سے بھی کوئی حل تو نکلتا نہیں تھا، تو وہ تمام کے تمام ماہ ضائع ہو جاتے تھے۔ اب اس طریقے کی مدد سے آغاز میں ہی میں ، اپنے تحت الشعور کو سمجھا کر ،موضوع کے بارے میں کچھ وقت سوچ کر ، باقی وقت ،دوسرے کاموں کو بھی دے سکتا ہوں۔
؛کیونکہ عموما جس طرح ہمارے اندر کا، شعوری لکھاری ،غیر ضروری طور لکھنے کے معاملے میں ، پریشانی کا شکار رہتا ہے۔
مثلا اس طرح کی سوچیں
لفظ نہیں آرہےn کیفیت نہیں بن رہی ہے nموڈ نہیں بن رہا
تخلیق نہیں امڈ رہیn ماحول نہیں بن رہاnn وغیرہ وغیرہ nگھیراؤ کیے رکھتی ہیں، اور بے چینی حاوی رہتی ہے، nاس طرح، سب کانشیئس یعنی تحت الشعور میں براجمان لکھاری بہت آسانی سے ، دباو کا شکار نہیں ہوتا۔nnویسے بھی لکھنا ، صلاحیت ہے، مشق کی محتاج ہے، ڈرامے باز حساسیت کی نہیں۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.