سوچنا سیکھیں ۔nnسوچنے کا عمل کیا ہے ؟nnسوچنا ، بنیادی طورپر ، کسی بھی موضوع پر، nدو چیزیں لاگو کرنے کا نام ہے nnموضوع/صورتحال /مسئلے /مدعے کا ، تجزیہ کا ، بامقصد، باقاعدہ ، اور تیر بہدف جائزہ ۔
تشخیص سے فیصلے تک کے مراحل پر ترتیب وار چلنا۔nnسوچنے کا طریقہ کار۔
سوالات ، پر بات بڑھانے کے لیے نہیں ، سیکھنے کے لیے ، آج کل کے معاشرے میں سوالات، بنیادی طور پر باتیں کیے جانے کے لیے ہوتے ہیں ، جواب در جواب کے لیے ہوتے ہیں ، اور یہ رویہ سوچنے کے عمل کا دشمن ہے ۔
ہاں سیکھنے کے لیے اور واقعتا سیکھنے کے لیےہرچیز پر سوالات کیجیے ۔
سچ کا راستہ آپ نے خود ڈھونڈنا ہے
اگر آپ کو کسی ایک موضوع کے بارے میں یہ پڑھایا گیا ہے ، کہ فلاں حق ہے ، فلاں طبقہ محب وطن ہے ، باقی سب غلط ہیں یا غدار، فلاں مذہبی ہے باقی سب کافر، فلاں پارٹی حق پر ہے ، باقی سب ناحق ہیں ، فلاں حقیقی راہ نما ہے ، فلاں راہ زن ہے ، فلاں حل ہے ، فلاں مسئلہ ہے nتو فطری طور پر یعنی اگر آپ ابنارمل نہیں ہیں ، بت پرست نہیں ہیں ، صم بکم نہیں ہیں تو
کم از کم خود سے یہ سوا ل ضرور کیجیے nایسا کیوں ہے ؟ آپ یہ کیسے جانتے ہیں کہ ایسا ہی ہے کہ جیسا سکھایا پڑھایا گیا ہے ، آپ خود کے سامنے کیسے ثابت کرسکتےہیں ۔
سوچنا سیکھیے ، یہ عمل آپ کے بہت سےمذہبی سیاسی صنفی ، دفاعی اور کمسن عارضوں کا خاتمہ کردے گا۔
کسی کا پرستار ہونا ، برا نہیں ، پجاری ہونا پرابلم ہے ۔چاہے وہ حب الوطنی کی اوج ثریا پر بیٹھا ہو ، تو یہ پوچھئیے یہ تعمیر کس نے کی ہے ؟یہ معاملہ مذہب فروشوں ، یہی معاملہ میڈیا ، یہی معاملہ ،مسیحائی کا دعوی کرنے والوں کے لیے بھی ہو
تب جا کر آپ کا دماغ ، سوچنا سیکھنا شروع کرے گا
سوچنا کیا ہے ، یہ بعد کی بات ہے ۔
پوسٹ – 2020-02-21
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد