پوسٹ – 2019-12-11

دوسری شادی اور پہلی بیوی سے اجازت ؟nnسادہ سی بات سمجھ لیجیے، کہ ، کسی بھی معاملے میں
کسی بھی طرح کی اجازت، صنفی تفریق سے قطع نظر، nاجازت دینا، ایک فیصلہ ہوتا ،اور فیصلے کے لیے،n منطق، کریٹیکل تھنکنگ اور تھاٹ پروسیجر کا پراپرلی آپریٹ کرنا ، وہ بھی جذبات سے پرے ہو کر، بہت ضروری ہے۔nnاور nذرا بتائیں کہ مذکورہ عوامل۔کاn عورتوں سے کیا تعلق ؟
اور وہ بھی پاکستان کی عورتوں کا؟
نہیں مطلب ،
لینا دینا کیا ہے ان منطقی اور غور فکر والی چیزوں سے nان برصغیر کی خصوصا پاکستان کی خود ساختہ مظلوم عورت کا ؟nnان کو تو بس یہ سوچنا چاہئے کہ nکس طرح، اپنے nمصنوعی حسن، کو مزید مصنوعی کرنے کے لیے مرد کی جیب خالی کروایں، اور میک اپ پہ پیسے لٹائیں ، کوئی پرابلم نہیں، مرد کی ذمے داری ہے، انہیں پیسے دینا، باہر گرل فرینڈ پر بھی لٹاتے پھرتے ہیں، اپنی پہلی بیوی کو جی کھول کر، رقومات دینے میں کوئی ایشو نہیں ہونا چاہئے، nnبلکہ یہ ان کا حق ہے، اور بہترین کمائی ہے بیوی پر خرچ کرناnnلیکن nn عورت کی اس سے زیادہ ، سوچ ہونی بھی کیوں چاہئے ؟
کوئی بھی فطری سوچ رکھنے والی عورت ،یہ کیسے سوچ سکتی ہے کہ مرد دوسری شادی کرنے کے لئے اس سے اجازت لے، اور معاشرے میں یہ چیزیں کیسے پھیلتی جا رہی ہیں، کہ دوسری شادی کی اجازت پہلی بیوی سے لینا ضروری ہےnnیہ اصول تو خود آئین پاکستان کی شقوں کے خلاف ہےnnچاہے کسی کھسی ڈکٹیٹر نے بنایا ہویا کسی سیاسی لیڈر نےnnاور سادہ بات کرتا ہوں۔nn پہلی شادی کرنے کے لیے، کس کی اجازت لی جاتی ہے یا گھر والوں سے اپنی خواہش کا اظہار کردیا جاتا ہے ؟
بلکہ یہاں تو وہ بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
کیونکہ اسے بھی بے شرمی کا ٹھپہ لگا کر خاموش کروادیا جاتا ہے اور اگر لڑکی ہوں جو اپنی شادی کی خواہش کا اظہار کرے تو وہ تو کم ازکم بدکار کے درجے فائز کردی جاتی ہے nnتو پھر کیا وجہ ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کو کو اعلی تعلیم کے لئے یے مختلف انسٹیٹیوٹس میں بھیجنے کے لیے مجبور ہیں اور نوکری کرنے نے کی اجازت دینے پر بھی کبھی کبھی اپنے والدین سے پوچھے گا کہ کیا صرف معاملہ پیسوں کا ہے یا ان کے دل میں یہ بھی ہوتا ہے کہ چلو جی خودی بر دیکھ کے خود ہی شادی کرلےnnاس طرح کے مظلوم اور فطرت سے قریب والدین کی بے بسی طرح محسوس تو کیجئے چلے یہ اس وقت موضوع نہیں۔nn اس کے باوجود اس ابتری کے باوجود بھیnn یہ سوچا جائے کہ مرد اگر اپنی پہلی شادی کی اجازت اپنے اطراف کے لوگوں سے لینے لگے تو کیا وہ کبھی شادی کر پائے گا؟nnاطراف کے لوگوں میں خواتین عزیز اور رشتہ دار بھی موجود ہوتے ہیںnnاس وقت تو صرف بتا دیا جاتا ہے، کہ جی مجھے یہ پسند ہے nاور میں نے اس سے شادی کرنی ہے nبلکہ اس کے لئے تو فائٹ بھی کی جاتی ہےn اگر تھوڑی سی ہمت ہوnnورنہ پھر اپنی محبوبہ کی شادی کسی اور مرد سے ہوتے دیکھ کر پھر بھی اس کی روح سے پیار کرنے والے خصی عشق بھی میں نے دیکھے ہیںnnجب پہلی شادی کے معاملے میں، ایسی کوئی شرط نہیں کہ اس میں اجازت لی جائے، تو دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی سے اجازت کا شوشا کنہوں ںے چھوڑا ہے ؟nnکیا یہ کافی نہیں ؟کہ پہلی بیوی کو بتایا جارہا ہے اس سے چھپا کے یا nجھوٹ بول کر دوسری شادی نہیں کی جا رہی
کیا اتنی انوالمنٹ یا اتنی عزت کافی نہیں۔
ہاں یہ بتانا، بہرحال احسان نہیں، کیونکہ بیوی ،شوہر کے لباس جیسی ہوتی ہے، اور بیوی سے کچھ بھی چھپا نہیں ہونا چاہیے ،
بیوی سے جھوٹ بولنے والے مرد بدترین مرد ہوتے ہیں،n چاہے وہ سچ ان خواتین کے لیے کتنا ہی تلخ ہوnnہاں اگر وہ سچ کسی جائز دائرے میں ہےn کسی ایسے دائرے میں ہے جس پر شریعت کوئی قدغن نہیں لگاتی تو اس کو واشگاف انداز میں بیان کرنے میں کوئی پرابلم نہیں ہونی چاہئے کم ازکم مرد کو نہیں ہونی چاہیے پھر وہ پکے قدموں پر کھڑا رہے nکیونکہ بہرحال ایسے سچ اور ایسے اقدامات کی پوری قیمت یہ معاشرہ اور یہ روایتیں خواتین بہرحال وصول کرتی ہیں ہیں پھر انسان کو اعصاب شکن کے لیے تیار رہنا چاہی
پھر چائہے وہ دوسری شادی کا فیصلہ ہو، یا پھر نوکری چھوڑ کر اپنا کاروبار کرنے کا فیصلہnnخیر موضوع پر رہتے ہوئے بس اتنا کہنا چاہوں گاnn ان عورتوں کو، کیا لینا دینا اس سے مدعے، وہ دو کرتا ہے، چار کرتا ہے، ان کو پورا پڑتا رہے بس کافی ہے ۔nnاور یہی بنیاد ہے عدل nکیونکہ ظاہر ہے، دوسری، تیسری، چوتھی شادی کرنے کے لیےnnمرد کو بہت ذمے دار، سمجھ دار، اور عادل ہونا ضروری ہے، صرف پیسے کا گیم بھی نہیں۔nn ایک بہت بڑی شرط ہے کہ، بلکہ ، بہت بڑی بھی اس طرح کی nعورتوں اور کچھ گلابی مردوں نے بنائی ہوئی ہے ورنہ عدل کرنا کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے اگر مرد واقعی
مرد ہے،
لیکن اہم ترین شرط ہے۔
کیوں کہ عدل جو ہے، وہ بنیادی طور پر، کام ہی لاجک کا ہے
اور باقی یہ کیونکہ سب نہیں تو اکثر، دوسری شادی کے مخالف مروت زادے، مرد طبیعت سے روحانی اور جذباتی طور پر خصی ہو چکے ہیں اسی لیے ذمہ داری خرچے
عدل و انصاف، جذبات کی مینجمنٹ اور ایسے بہت سے عوامل سے بچنے کیلئے دوسری شادی کے مخالف ہو جاتے ہیں
کچھ کچھ اعصاب شکنی ایسے مردوں
پر نوکری کی وجہ سے بھی چھائی رہتی ہےnnکے دماغ میں یہی چل رہا ہوتا ہے کہ نوکری ایک تو بیویاں دو کیسے رکھ سکتا ہوں
ایک کا پورا نہیں پڑ رہا۔
ابے
یہی تمھارے والدین سوچ لیتے، تو، تم اس دنیا میں نہیں آتے
کیون کہ رزق توکل، من جانب اللہ nnیہ nالگ بات ہے، کہ کچھ لوگ ون وومین مین، بن کر بھی خوش رہتے ہیں ۔
اکثر وہی شاعر ٹائپ عاشق ہوتے ہیں nورنہ ون وومین مینnnصرف افسانوں میں اچھا لگتا ہےnnخیر ، اب تو ، ٹو مین وومین پر بھی ڈرامے آرہے ہیں لولnnلیکن دوسری شادی کے فضائل پہ، کوئی نہیں بنایے گا لول
بہرحالn کونسا فطری مرد ہے ،جسے صرف ون وومین کا مین رہنا ہی پسند ہو
اگر کوئی ہے تو ؟
وہ یہ دعوی کر سکتا ہے کہ nوہ اپنی بیوی کے علاوہ کسی کی طرف بھی نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتا ہاں جو ایک نگاہ غلطی سے پڑ جائے جس کی معافی ہے اس کی بات نہیں ہو رہی ہیںn اگر تم اپنی بیوی کے علاوہ دوسری عورتوں سے مخاطب ہوتے ہو کاروبار کی مجبوریوں کے علاوہ
انہیں دیکھتے ہو ان کی تصاویر دیکھتے ہوn ان کے لئے تمہارے دل میں پسندیدگی کے جذبات ابھرتے ہیں تو تم کہاں سے ون وومین مین ہو ؟
تم مجبورا ون وومین گلابی مین nnبہرحال موضوع کے لب لباب یہ ہے کہ دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی کی اجازت کی ضرورت nnاس کے منطقی اسباب پوسٹ کے شروع میں بیان کر دیے۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.