پوسٹ – 2019-12-11

پچاس ملین دوnnدوسرے کی بیوی ہتھیا لو
واہ کیا اچھوتا موضوع ہے کیا ٹاپک کیا ڈرامہ ہے nجسے دیکھو ڈائیلاگس کی تعریف کرتی پھر رہی ہےnnپاکستان کی سطحی ذہنیت کی عورتوں، بلکہ حماقت کے درجے پر گری ہوئی روایت پر ست
عورتوں nمیں سے nnکسی کو توفیق نہیں ہوتی، کہ nnاس اور اس طرح کے ڈرامے میں جس چیز سے روگردانی دکھائی جارہی ہے اس پہ بات کر لیںnnیعنی nدوسری شادی کے موضوع پہ nڈرامہ بنایا جائے
اور اس میں برکات دکھائی جائیںnnیا پہلی شادی کو آسان کرنے کے موضوع پہ ڈرامہ بنایا جایےnnاس پر کھوتے منگوں دانت پھاڑ کر ہنسیں بھی گپ۔شپ بھی کریں تو کچھ ان کی زندگیوں اور اجڑی جوانیوں کا فائدہ بھی ہو۔nnلیکن جیسے یہاں کھوتا دماغ مرد ہیں
اس بھی اسفل درجے پہ گری ہوئی عورتیں ہیںn(سب نہیں لیکن جنہیں، چسکے کی عادت ہے، اور مدعوں پہ خم ٹھونک۔کر بات کرتے موت پڑتی ہےnnالفاظ سخت ہیںnnپر ایسی عورتیں nاور ان کے مردnnسب کی ںات نہیں کرتاnnاسی قابل ہیںnnپھر کہتے ہیں کہ بوٹا گالاں کڈڈا ہےnnپردے پر جو اکبر الہ آبادی کا شعر ہے وہ سب نہیں بلکہ اس قماش کی nتمام عورتوں اور مردوں پہ پورا اترتا ہےnnجو کھوتا دماغ ایسے ڈراموں کی تعریف اور تنقید میں رطب اللسان ہیں لیکن اصل موضوع یعنی، پہلا آسان نکاح، اور دوسری شادی، معاشرے میں رشتوں کا نا ہونا، بے جوڑ رشتوں جیسے موضوعات سے روگردانی کرتے اور نظریں چراتے اس میڈیا اور ایسے ڈراموں کا۔گریبان۔کھینچتے موت پرڑتی یے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.