پوسٹ – 2019-11-18

#19nnتو پھر ، ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟
آسان کرتے ہیں nایک طبقہ یہ کہتا ہے ، کہ ضروری نہیں ، آپ کو سائیکل تیز آندھی میں لے جانی پڑے۔
ہمیں موقف سائیکل پر سواری کی ضرورت ہے بھی تو بھی ، اسے تند و تیز آندھی میں رگیدنا ضروری نہیں کیون کہ یہاں ، در اصل ، جیتنا، اصل مسئلہ ہی نہیں۔
مسئلہ کچھ اور ہے nnچلیں ، ہم اس کو ، ایک فرسودہ سے فلسفے شروع کرتے ہیںn جو کہتا ہے کہ nتاویلات کی تلملاہٹ ، تعصب اور تساہل کی وجہ سے ہوتی ہے ۔
متعصب اس لیے کہ ، انسان اپنے موقف کو لے کر اندھا دھند تاویلات/بہانے /عذر تراشتا ہے ، جو اسے ذہنی سکون دیتی ہیں ۔ بھلے سے اس کے موقف کو بہت زیادہ سپورٹ کریں یانا کریں۔
اور ، تساہل/سستی اس لیے کہ جو ریزن دینے والا ہوتا ہے ، اس معلوم ہوت اہے ، کہ اسے اپنی تاویل کی کوالٹی ، تحقیق اور حقیقت کو تولنے کے لیے محنت کرنے پڑی گے ، حوالہ جات، مطالعہ ، معلومات حاصل کرنی پڑیں گے ، اب اس جھنجھٹ میں کیا پڑنا ، تو اس وجہ سے ، انسانی دماغ ، تاویل کا آسان راستہ اپنا لیتا ہے ۔nnاکثر اوقات ، سوشل میڈیا پر لڑتے افراد کی تاویلات ، تساہل پسندی کی ، علت کا ایک ، اظہار ہوتی ہیں nیعنی ، ریزن، سستی کی علامت ہے nیہ ہوئی بری خبر
اس میں اچھی خبر یہ ہے کہ ، یہ بہت nچھان پھٹک کر، سیلیکٹڈ انداز میں ، سست ہوتی ہیں ، یعنی ہم ہر جگہ ، تاویلات میں تساہل نہیں برتتے
کیسے ؟ nارے بھئی ، اپنے دلائل کا دلال بن جانا اور، دوسرے کے دلائل کے لیے پاکباز، یعنی اس کی باتیں ، تاویلیں ، ان کی حققیقتیں ، حوالہ جات، سب کھو د کھاد کر لے آنا۔
پھرتیاں ، ،مکاریاں ، مطالعہ، سب باہر آجاتا ہے ، خصوصی طور پر ، جب ہم ان سے اختلاف کر رہے ہوں۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.