چیخوں کی آواز سن کر لگا شاید اسکول کی چھٹی ہوگئی ہے اور بچے شور مچا رہے ہیں ۔۔ پھر سوچا ۔۔ مئی کی اکتیس، دن کے چار بجے ۔۔، اسکول ، بچے ؟ nباہر نکلا تو ایک اکرام مسلم والے اور دوسرے ایم کیو ایم والے ایک دوسرے کی ایم سی بی سی کر رہے تھے ۔۔ وجہ تو نہین پتا۔۔ تھوڑی دیر تماشا دیکھا۔۔ دیکھتے دیکھتے ہی دیکھتے اکرام بھائی کے مسلم ہاتھ کے چھوٹے والے بھائی کے الٹے ہاتھ میں برف کاٹنے والا سوا نظر آیا۔۔ جس کو برف میں گھسا کر اوپر سے ہتھوڑا مارا جاتا ہے ۔۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آیا کہ وہ ایم کیو ایم والے کی کی کون سی برف پگھلانا چاہ رہا تھا۔۔ ایک ٹوٹی ہوئی کرسی نظر آئی جو سب کی نظر بچا کر چوری کر لی ۔۔ سر پر ٹوٹنے سے اچھا ہے چوری ۔۔ سو کر لی ۔۔ عورتوں کی چیخیں جس پر بچوں کی بک بک کا گمان ہوا تھا وہ بڑھ گئیں پھر ایک محلے کا اپنے آپ میں معزز نظر آیا جس کو پچھلے دنوں رینجر والوں نے اٹھا لیا تھا کسی سیاسی اعزاز کی تقریب رونمائی کے لیے ۔۔ اس نے اس بار کام اچھا کیا کہ سوا جس کے ہاتھ میں تھا اس کو پیچھے ہٹا دیا۔۔ لیکن اکرام بھائی کے مسلم کپڑے لیر لیر ہوچکے تھے ۔۔ پھڈا ختم ہوا۔۔ مزا کرکرا ہوا۔۔ تو آ کر یہ اسٹیٹس لکھ دیا۔۔ کیا فائدہ بیچ بچاو کرواتا تو اسٹیٹس بریکنگ نیوز نہ بن پاتا۔

اترك رد