ڈسکشن کرنے والوں کی میں بیپ بیپ بیپ بیپ ۔۔ nnصبح سے ایک ٹائی کالر والے مزدور سے میں اس بات پر الجھا ہوا تھا کہ ۔۔ جب میں نے تجھ سے کالا کلر مانگا۔۔ تو تو نے مجھَ گرے کیوں دیا۔۔ وہ مصر تھا کہ میں نے تجویز دی ۔۔ یعنی اس کے خیال میں حل دیا۔۔ جب کہ میرا یہ کہنا اور ایمان ہے ۔۔کہ اگر کسی مسئلے کو حل نہ کر پارہے ہو تو سامنے والے کو منع کردو۔۔ وہ برا نہیں مانتا۔۔ یا تو اس کو وہ حل دو جو وہ چاہ رہا ہے ۔۔ اپنا دماغ چلا کر تجویز یا حل کے نام پر سامنے والے کا وقت ضایع مت کرو۔ تین گھنٹے لگے مجھے اس کے حلق اور جسم کے دوسرے حصوں کے ذریعے یہ بات اتارنے میں ۔۔ اور پھر یہ بحث میرے سامنے مجسم ہو کر اس طرح آگئی ۔
اس بحث کا ڈرامائی رخ پڑھئے جو کسی اور کردار کے ذریعے سامنے آیا۔۔ پڑھئے اور لطف لیجئے ۔ لطف نہ ملے تو لینے کے لیے دوسری چیزیں بدرجہ اتم [واہ کیا لفظ استعمال کیا میں نے ] موجود ہ ہیں۔nnہوشیار پور کا ایک ہوشیار آیا اور کہنے لگا ۔۔ میرے چچا نے مجھے گھر پردو دن سے قید کردیا ہے کیوں کہ میں پڑھتا نہیں ہوں اور وہ مجھے پڑھا کر بڑا آدمی بنانا چاہ رہے ہیں ۔۔ لیکن دو دن سے میں اپنے گھر نہیں گیا۔ دل چاہ رہا ہے ۔۔ کہ ذرا چکر مار کر دماغ فریش کر کے آوں اور پھر پڑھ لوں ۔۔ تم بتاو کیا کہوں چچا کو کہ وہ مجھے تھوڑی دیر کے لیے جانے دیں ۔۔ ؟
میں نے ٹائی کالر والے ڈسکشن کے اس دلال کی دلیلوں سے قبر پکی کری ، پسینہ پونچھا اور اس ہوشیار کی طرف متوجہ ہوا جو سگریٹ پی رہا تھا اور کہا
۔۔ دیکھ بھائی ۔۔ مشورہ نہیں فیصلہ لے ۔۔اور وہ یہ کہ۔۔ چپ چاپ گھر جانے والی بس میں بیٹھ اور گھر جا کر چچا کو کال کر دے کے شام میں آجاوں گا۔۔ وہ تھوڑی ذلت کریں گے ۔ لیکن مقصد حاصل ہوجائے گا۔۔ اور مائنڈ بھی فریش۔۔ سنگسار تو کرنے سے رہے ۔۔ نہ ہی تجھے قتل کریں گے ۔۔ چونکہ مشورہ ، ڈسکشن ، میٹنگ ، آپ کی رائے اس کی رائے ۔۔ یہ مرض ہمیں وبا کی صورت لڑگیا ہے ۔ اس لیے اپنی قوم کے دوسرے ہم نسل افراد کی طرح اس کو بھی یہ بیماری بری طرح لاحق تھی ۔۔ میں نے جو حل بتایا اس کو وہ ایک مخصوص جگہ مار کر چچا سے اجازت یعنی ان کی رائے لینے پہنچ گیا۔۔ چاچا نے جو شام میں کرنا تھا یعنی ذلت ، وہ انہوں نے ایڈوانس میں کر کے اس کو گھر بیٹھنے کا حکم صادر فرمادیا۔۔ nیہاں میں نے آگ لگانے والی آںٹیوں کے لہجے میں ۔۔ اس کا حسب ضرورت اور حسب معمول سا استحصال کیا اور جتایا کہ جب بولا تھا تو بجائے ڈسکشن کرنے کے ایکٹ کرتا اور چلا جاتا۔۔ ہن آرام ای ۔۔ وہ کہنے لگا ویسے بھی کوئی ارجنٹ نہیں تھا۔۔ میں نے کہا۔۔ تو رائے کیوں لینے آیا تھا۔۔ ویسے تو دنیا کا باپ بنا پھرتا ہے ۔ اور قوت فیصلہ تیری ، نکوٹین کی بھینٹ چڑھ گئی ہے ۔۔ تو اب کھسیانا بلا بن کے ۔۔ بلا کے قافیہ ایک لفظ ہے اس کو نوچ۔ شابا۔۔ nnنتیجہ : ڈسکشن کرنے والوں کی میں بیپ بیپ بیپ بیپ ۔۔۔۔۔
پوسٹ – 2016-05-26
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد