پوسٹ – 2022-04-11

افلاطون n———————————-nافلاطون ، ایمپریس مارکٹ میں کھڑا اپنا سر کھجا رہا تھا، اس کے سر کے پچھلے حصے میں اتنی گرد اتنی جم چکی تھی کہ ، کچھ سوچیں پھنس کر رہ گئیں تھیں ، مثلا وہ یہ سوچ رہا تھا کہ وہ کسی زمانے میں یہاں سے گزرا تو یہ جگہ شاداں و فرحاں ہوا کرتی تھی ، لوگ باگ چہل پہل ، پتھارے ، کنوارے ، بےچارے ہر مال والے ، یہ سب اس جگہ کی رونق تھے ، اور آج یہ جگہ ایک کشادہ سی پبلک پلیس لگتی تھی ، اس نےپاس کھڑے زندگی بخش طریقوں پر مبنی جنگلی ، جرمن، دیسی ، انگریزی زبان میں میسر سی ڈیاں بیچنے والے سے استفسار کیا nn” ارے بھئی وہ رونقیں کہاں گئیں ؟ انیس سو کے اوائل میں یہ جگہ تو ایسی نہ تھی” nوہ شخص بھی اپنا بازو مسلسل کھجا رہا تھا، اس کے بازو پر کسی سفید سی چیز کا نشان تھا، افلاطون نے اس کا پورا بازو، ہاتھ میں لے کر سہلایا اور کہا ، کہ اپنے بازو کو کھجانا چھوڑو اور جو پوچھآ ہے یہ وہ بتاو
اس نے ناگواری سے افلاطون کو گھورا اور اجڈ لہجے میں کہاn”پتہ نہیں میں تو اس شہر کا باسی ہی نہیں ، میں تو باہر سے آیا ہوں “nافلاطون آگے چل پڑا
کچھ پرے ایک پان والا ، کراچی کا شعور ، پان کے پتے پر بکھیر رہا تھاn”اوون اووون ووہہن ” اس نے افلاطون کو دیکھتے ہی ادبی سی مسکراہٹ اچھالی اور اس کے منہ سے یہ قیمتی اووہہاننوہوہون چھینٹ بن کر افلاطون کے منہ پر پڑی “n”ارے یہ کون سی زبان ہے ،” افلاطون حیرت زدہ رہ گیاn” یہ کہہ رہا ہے کہ کون سا پان لگاوں “n-برابر میں کھڑے ایک بزرگ صورت نوجوان جس کی پینٹ پر جگہ جگہ باشعوری کے ثبوت کے طور پر لال نشان تھے کہنے لگاn”اوہ نہیں نہیں کوئی پان نہیں بس مجھے یہ جاننا تھا کہ ایمپریس مارکیٹ کی یہ صورت گری کس صدی کا اعجاز ہے “nپان والا منہ تکنے لگا، لیکن منہ اس کا چل رہا تھاn”کیا کےےے رےےے اوووو n(کیا کہہ رہے ہو)nکوووون ایجاز ، کس نے کیا ایجااد کردیا اب –؟”nوہ تہذیب کا علم بردار نوجوان افلاطون سے کہنے لگاn”سر ان پان والے صاحب کی اردو بہت شستہ ہے ، آپ اپنی بات سے اعجاز کو چلتا کیجئے اور اپنی اردو کو تھوڑا سا بہتر بنا کر بات کیجئے”nافلاطون سٹپٹا گیا، اس کی اردو تو کیا ، کوئی بھی زبان اس شہر میں اجنبی تھی nکیوں کہ وہ بھی شہر کے باہر سے آیا تھا
خیر اس نے کہا کہ nاررررے میں آپ سسسسے یہ پوچھ ریا ہوں کہ یہ ایییمپریس مارکیٹ کی یہ شکل کن نے بنا دی”؟n”اوہ تو یوں کہییے نا “nپان والے نے کراچی کی تہذِب کے داغ اپنے دانتوں میں چھپا رکھے تھے وہ دکھائے اور ہنساn” بھئی ایمپریس مارکیٹ سے آگے تک پتھارے والے باہر سے آکر شہر کو گندا کررہے تھے ، nاس لیے ان کو ہٹا کر ، پچھلی روڈ پر شفٹ کردیا ہے جو سٹوڈنٹ بریانی کی طرف ہے وہ روڈ چونکہ ویسے ہی گندی سی ہے اس لیے وہاں مزید کچرا کردیا ، کیوں کہ تہذیب کا استعارہ یہی ہے کہ کچرے میں کچرا ڈالنے سے گندگی بڑھتی نہیں ، اب دیکھو آپ کیسے ٹریفک چکا چک چل رہا ہے ، رات رات بھر چلتا ہے ، جام ہو نہ ہو رش رہتا ہے ، ایسے ہی تو ہمارا شییر عروس البلاد نہیں ہے “nافلاطون پھر اپنا کھجانے لگا، اس کے سر کی سوچ بہہ نکلی تھی nوہ قائل ہوگیا
بس ایک سوال ہے بھائی پان والے
پوچھو
یہ شیر عروس البلاد مطلب؟n”تم جاہل ہی ریینا ، باہر سے آئے ہو نا — شیر مطلب ہوتا ہے شٹی شٹی جہاں لوگ رہتے ہیں سمجھے — ہونہہ “nافلاطون تب سے اب تک لاپتہ ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.