لکھنا چاہتے ہیں ، تو لکھنا نہ چاہیں۔ nکچھ ماہ تک کاغذ اور قلم کا احترام کیجیے، سادہ کاغذ کو آنکھوں سے لگائیے ، خشک قلم کے سامنے دو زانو ہوجائیں کہ بظاہر یہ بے روح اور بےجان چیزں،خالق کی انگلیوں کا براہ راست لمس ہیں، انہوں نےہمارے وقوع پزیر ہونے سے مدتوں پہلے
لفظ اقرا ء کا ذائقہ چکھ رکھا ہے، اقراء کے والی ، اقراء کے مصنف کی چوکھٹ پر اپنا آپ صدقہ کریں، اشکوں کو جائے نماز بنائیں , کم مائیگی کو سجدہ ریز کیجیے ، مالک کی آغوش سے لپٹ جائیں ، اور اس وقت تک لپٹے رہں جب تک وہ پالن ہار ، لفظوں کو حکم نہ دے کہ لفظ آپ کی انگلی پکڑ کر آپ کے گرد رقص کرنا شروع کردیں۔ اقراء کی لاج رکھیں، اقراء والا آپ کو تاج بخشے گا۔ nالمصور سے چند برش سٹروکس اپنی دعا پر بھی لگوا لیں، کاغذ آنسو وں سے گیلے ہوں تو ، لفظ آپوں آپ ، اپنا آپ سونپ دیں گے۔ nبس اتنا یاد رکھیں، لکھنا چاہتے ہیں تو لکھیں مت۔ nلکھ پاتے ہیں تو چاہیں مت nلفظوں کا ہر باب اقراء سے پھوٹتا ہے
اس در پہ ڈیرا ڈال لیں۔بیڑا پار ہوجائے گا۔
پوسٹ – 2022-01-08
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد