پوسٹ – 2020-09-18

جدید ادوار میں ، بے عملی پر مبنی فلسفہ ، محض منتشر دماغ قوم تشکیل دیتا ہے – اور خصوصا وہ قومیں ، جن کے کریڈٹ پر کچھ خاص نہ ہو ، وہ جو ، باجگزار رہی ہوں وہ ، جو ، ہر کسی کو مسیحا سمجھ بیٹھتی ہوں ، وہ جو ، ہر ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتی ہوں ، وہ جن کے ذہن کی رگوں سے تحقیق اور تخلیق خشک ہو چکی ہو ، وہ قومیں جو ، چاہتی ہی ہوں کہ ، کچھ سیکھیں ، ان قوموں پہ فلسفے کی تعلیم ، بہرحال ،بین ہونی چاہئے ، کیوں کہ ، فسلفہ ان کی کھوٹی راہ کو مزید کھوٹا کرتا ہے ۔
فلسفہ ، کسی بھی قسم کا ہو ، کوئی خاص قسم نہیں ۔
فلسفے کے طالب علم/شوقین میں چند مشترکہ ، چیزیں نظر آئیں گی nn زیادہ تر آپ کو ، گنجلک منطقیں لیے نظر آئیں گے ، nان میں اکثر کمسن ہوتے ہیں ،n غیر شادی شدہ ہوتے ہیں n، پیٹ بھرے ہوتے ہییں ،n تجربات سے نابلد ، مشاہدات پہ چل رہے ہوتے ہیں ،n نکتہ پہ نکتہ نکال کر ، بات بڑھا رہے ہوتے ہیں ،n اپنی موجودہ زندگی سے سیٹسفائی نہیں ہوتے ،n زندگی کا کوئی خاص مقصد نہیں ہوتا ، کسی بڑے ہدف کو پانے کی کوئی جستجو نہیں ہوتی ، اکیڈمکس کے حوالے سے بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں ، اور یہی ، چیز ، ان کی سوچ کو قید کررہی ہوتی ہے (تعلیم نہیں ، بلکہ ، جن خطوط پر ، تعلیمی نظام استور ہے)nفکر آزاد نہیں بے لگام ہوتی ہے nتدبر، سے عاری ہوتے ہیں ، کیوں کہ تدبر ، بہرحال ، سلوشن اور عمل کی جڑ ہوتا ہے nایسے افراد ، اکثر غیر فطری عمر یعنی بڑی عمر میں جا کر ، بھی شادی نہیں کررہےہوتے ، یا ہو نہیں رہی ہوتی ، nجنسی پارٹ، ادھورا ہوتا ہے ، جسے یہ صوفی ازم سے ، کور لیتے ہیں ، صوفی ازم بھی ، آج کے دور میں ، ایک فلسفہ ہی ہے ، جو ، موسٹلی ، بے عملی کی طرف مائل کرتا ہے ، آج کے دور میں ،اور موسٹلی ، ورنہ کافی ، باعمل ، اور لاجکل ، قسم کے صوفی موجود ہیں ، لیکن ، اکثریت ، بے لگام ٹائپ ہی کی ہے ۔
بہرحال، کل ملا کر بات یہ ہے کہ ، فلسفہ ، بےعملی اور منتشر اذہان کے کھیلنے کودنے کی چیز ہے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.