اکثر ایسا ہوتا ہے، کوئی، مضطرب شخص آپ سے مدد کا متمنی ہوتا ہے
اور جب آپ کوشش کرتے ہیں کہ اسے گائیڈ کریں
تو اس کے جملے اس طرح ہوتے ہیں
پتہ نہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا کیا کروں
دماغ بند ہوگیا ہے
کوئی چیز کلئیر نہیں
فیصلہ نہیں کر پارہا
آخر اس مسئلے کا کیا حل نکالوں
آپ اسے عمل کی راہ سجھاتے ہیں تب بھی اس کا رویہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
گویا وہ خود بھی کچھ نہیں کر پارہا nاور آپ کی بھی نہیں مان رہا
یعنی، خود سینس نہیں
دوسرے کی بات بھی نہیں ماننی
جب بارہا ایسا ہو، اس شخص کےلیے آپ میں ہمدردی کی رمق نہیں ہونی چاہئے
اسے اس کے حال پہ چھوڑ کر اپنے دماغی سکون جو ترجیح دیں
ورنہ اس نے آپ کے گلے پڑ جانا ہے۔
یہ جو پاکستانیوں میں ہرکسی کا باپ بن کر اس کی خیر خواہی کی عادت ہے نا، یہ انہیں ذلیل کروا رہی یے
اس کے پیچھے ، برسہا برس کی مذہبی اور جذباتی بلیک میلنگ کارفرما ہےnnمذہب کے نام پر کوئی تنکے، مرچیں لگیں، تو ، مقصد پورا ہوگیا
پوسٹ – 2020-09-08
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد