ماڈل ٹاون ، بلدیہ ٹاون والوں کے جھلسے لاشے ، کراچی کے سرفراز کے جڑے ہاتھ ، خروٹ آباد کی انگلی ، ساہیوال کی یتیمی, ، تربت کا ہاتھ، nnیہ قتل نہیں ، ان کے خلاف ، حجتیں ہیں ، جو ایک ایک کر کے پوری ہو رہی ہیں ۔
موت تو سب کو آنی ہے ، پر ایسی بے نوا اموات ، اوپر جا کر ، کیس پکا کرنے کے لیے ہوتی ہیں ۔
باقی ، رسوائے زمانہ تو ہہلے سے تھے ، اب ایکسپوز بھی ہو چکے ہیں ، nاب بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں nnاور ان کو بھی جو کہتے ہیں n”کچھ تو کیا ہوگا
ان کے تو اوپر کھینچ ماری جائے گی بستی -nاور ان بے غیرتوں کو بھی جو ایسوں سے کھلی برات اور قطع تعلقی نہیں کرتے n”مسلم امہ” کے نام پر ، دعوت کے چکر میں دوستیاں نبھاتے ہیں nیہ نیچ لیول کے ہیں nپھر سیکونس یہ بنتا ہے کہ nnکھلے ظالم کی پکڑ ڈھیل دے دے کر ہوتی ہے پر ، یہ جو منافق ہوتے ہیں ان کو چھوٹی لکڑیوں کے طور پر استعمال کر کے ، ایندھن بنایا جاتا ہے ، بڑے منافق/ظالم جو کبھی اسلام کبھِی حب الوطنی ، کبھی وقار کبھی مصلح بنے ، پاکستان کے مامے خان بنتے ہیں ، nان کو پھر ہلکی آنچ پر نہاری بنا کر پکایا جاتا ہے ۔
پوسٹ – 2020-08-19
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد