اظہار پہ روک ٹوک لگا کر،میڈیا کے ذریعے بالکل عام سے انسانوں کو شاہکار بنا کر رکھ دینا، اسی رویے کو جنم دیتا ہے، جو ٹک ٹاک اور فیس nبک پہ نظر آتا ہے
انڈیا ہو یا پاکستان، فیس بک یو ٹیوب اور ٹک ٹاک پر۔ جو حشر بپا ہے ، وہ اسی لیے ہے کہ پی ٹی وی اور دور درشن کا گلا گھونٹنے کے بعد،اظہار کی تربیت، اور رائے کی آزادی سے پہلے رائے کے اجزائے ترکیبی پہ ٹوک لگائی گئی، اور پورے پچیس سال nفنکاروں ، کو بڑا آدمی پورٹرے کیا گیا
کسی رائٹر، ڈاکٹر، انجئنر، سائنسدان ۔کاروباری، مصور، فلسفی، دانشور، شاعر ؟، ماہر سماجیات ، ماہر نفسیات کو سلیںریٹی نہیں بنایا گیا
تو بس اب فصل پھل دے رہی گلے سڑے ، اظہار کی۔
پوسٹ – 2020-08-07
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد