پوسٹ – 2020-07-31

پاکستان ، نے ایک اوپن مائنڈڈ سوسائٹی بن کر رہنا ہے ، nاستعارے میں سمجھیں تو
پاکستان ، ایک زمین ہے جو ، کئی عشروں سے ، تپش دے رہا تھا
اب اس تپش کے لیے ایک “اوپن” مائنڈڈ آئس ایج دیا جائے گا
جو کہ ظاہر ہے ، اسی لیول کی شدت پہ ہو گا ، جس لیول کی تپش تھی nیہ ہو کر رہنا ہے ، آغاز ہوچکا ہے، بلکہ بات کافی آگے جا چکی ہے ، بس ایکسپوزڈ ہونا باقی ہے ۔۔کافی حد تک ، ایکسپوزڈ بھی ہے ۔۔ بس مانتے ہوئے جان جاتی ہے ۔۔
لبرل ازم کے نام پر ہی سہی ، پر یہ تپش کو آئس ایج میں بدلنے کے لیے ہے nلبرل ازم ( پاکستانی ) خود کچھ نہیں ، ایک ٹول ہے ، اس کے بہت نقصانات ہونے ہں nnپریہ موضوع نہیں ۔ nموضوع یہ ہے کہ ، اس کے بعد جو ، دور آنا ہے ، حد سے حد پندرہ بیس سال بعد ، اس کی کیا تیاری ہے ؟
پہلے یہ سمجھ لیں وہ دور کیا ہوگا ؟
اگر پاکستان بچا رہا ( اللہ کرے بچا رہے ) nتو اس دور کی تیاری کی ضرورت ہے ، nآج جو بچہ پانچ سال کا ہے ، اس دور میں وہ پندرہ یا بیس سال کا ہوگا
اس دور میں ، اعتدال ، سوشل سائنسز، یعی سماجیات ، فنون لطیفہ ،کمیونی کیشن ، انسانی نفسیات ، سائنٹسٹ ، لکھاری ، وغیرہ ، ان کی کھپت چاہئے ہوگی nکیوں کہ ایک پراگریس کرنے والی سوسائٹی ، ان سب چیزوں کے ساتھ ہی آگے بڑھتی ہے nn(آج بھی یہ لوگ بہت کم ہیں یعنی جو واقعی ماہر ہیں ( nتو کیا تپش کے بعد ، کی سردی کو اگنور کرنا ( کیوں کہ اگر پاکستان ایک اوپن مائنڈڈ ) سوسائٹی بنتا ہے ، جس کا بیج بارہ اکتوبر کو لگ چکا تھا
اوپن مائنڈ کا مطلب ، پچپن ستر کی دہائی کا پاکستان دیکھ لیں ۔سرچ کر کے ۔
اس میں کچھ ، پرابلمزبھی تھیں اور کچھ ، اچھائیاں بھی nبہرحال ، غلط صحیح کی بحث نہیں یہ nسوال یہ ہے کہ nکیا اس دور کے بعد ، جب سردی حد سے بڑھے گی تو ، پاکستان ، ایک ایسے موسم کی طرف نہیں جائے گا ؟
جو معتدل ہو
اگر ایسا ہی ہے ، تو
کیا ہمابھی سےnnاس دور میں ، اعتدال ، سوشل سائنسز، یعی سماجیات ، فنون لطیفہ ،کمیونی کیشن ، انسانی نفسیات ، سائنٹسٹ ، لکھاری ، وغیرہ مہیا کرسکیں گے ، nیا اس وقت بھی ہم وہی کررہے ہوں گے جو آج کرتے ہیں
یہ غلط تھا وہ صحیح تھا
اس نے وہ کیا اس نے وہ کیا
وغیرہ وغیرہ
یاد رکھیں ، اس وقت جو تیس سے چالیس کی عمر میں ہیں جن کے بچے ہیں nوہ بھول جائیں ، کہ وہ سوسائٹی میں کچھ کانٹری بیوٹ کرسکتے ہیں
نہیں کرنے دیا جائے گا
بس ، پیسے کمائیں اور اپنے مستقبل ( بچوں ) پرکانٹری بیوٹ کریں ، nانقلاب نہیں آنا ، کوئی بھی پارٹی ہو اسلام کے نام پر منجن فروشی کرے یا کسی اور نام پر ، ، اسے کہہ دیں ، ٹھیک ہے میرے بچے پر انوسٹمنٹ کے لیے ، پیسے دیے جاو ، کام کرتا رہوں گا تمھارے سو کالڈ انقلابی نظریے پر
ہرگز ہرگز ، فی سبیل اللہ والے جھانسے میں نہیں آئیں nنہ کسی اور ہمدردی والے میں
اگر فی سبیل اللہ کا جملہ ایسے افراد کے منہ سے ، را ل کی طرح بہہ رہا ہوتو
اسے صاف کہہ دیںn”دیکھ بھائی اللہ کی راہ میں تو پھر ، زیادہ پیسا خرچ کرنا چاہئے نا ، تو ٹھیک ہے پیسے زیادہ دے ، کہ مجھے پتا ہیں تیرے پاس پیسے ہیں ،وغیرہ وغیرہ”، nباقی مشن بیسڈ ادارے پر nFarhan Zafarnکافی اتار چکے ہیں ان ، ٹاوٹوں کی nان سے رابطہ کر کے وہ تحریر لے لیں ،
اینی ویز یہ موضوع نہیں nنہ ان کے موضوع کو منع کریں نہ نظرئے کو نہ ان کے کام کو ، nجس نظریے کو اپنانا چاہیں اپنا لیں ، پر ، اپنا سٹینڈرڈ ، نہ گرائیں کہ ، پیسے کم لے لیے وغیرہ وغیرہ اور وہ لگائیں اپنے اصل انقلاب پر nیاد رکھئیے ، انقلاب وہ کونپلیں ہیں جو آپ کے گھروں میں ہیں یعنی چھوٹا بچہ جو ابھی چار پانچ سال کا ہے ، آپ کے گھر سے انقلاب پھوٹۓ گا ، اور پندرہ بیس سال کی سوسائٹی میں فٹ ان ہوجائے گا ۔
باقی ، سماجیات کے علم کے مطابق ، انقلاب ، آتا نہیں ہے ، پالا جاتا ہے n.

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.