پوسٹ – 2020-07-04

ہمارا پیٹرن ہے، اجتماعی طور پر پہلے
آوے آوے کرتے ہیں nپھر کچھ وقت بعد nکتا ہائے ہائےnnعمومی ، طور ، ہم، منفی سوچتے ہیں n(اس کا‌مطلب ہرگز ، خود‌فریبی والی پوزیٹوٹی کی تبلیغ نہیں(nمنفی افراد کے ساتھ رہتے ہیں
منفیت میں گھرے رہتے ہیں
انفرادی طور پر بھی
اور اجتماعی‌طور پر‌تو باقاعدہ ہم‌پہ منفیت سایہ فگن رہتی ہے
کبھی کسی سیاست دان کے لیے
کبھی میڈیا کی وجہ سے (میڈیا بھی ہم‌ہی ہیں)nکبھی سوشل‌میڈیا پہ ، گروہوں میں بٹے رہتے ہیںn( ان‌میں اکثر سے زیادہ پیٹ بھرے،ہیں جن کی‌منتھلی پگار بندھی‌ہوئی ہے، ان کا‌کچھ خاص سٹیک‌پہ نہیں (nان کے دماغ صرف نو سے پانچ پر پروگرامڈ ہیں
اور یہ معمول عشروں سے ہے
اس لیے،لاک ڈاون سے پہلے اور بعد nآئی کیو، سوچ، ذہنی بالیدگی، ورسٹ سے ورسٹ ہوتی چلی گئی nہم‌میں سے کتنے ہیں، جو فوکس
ذہنی مشقیں
مطالعہ،
سوچا کیسےجائے
سیکھا کیسے اور کیا جائے
جب انفرادیت میں
ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا تو ہماری کیا انرجی اسمبل ہوگی
منفیت لہروں کا ملغوبہ اور کیا ؟
تو بس پھر دو جمع دو چار ہے،
کوئی مظلوم‌نہیں پاکستانی مسلمان، یہ فیس‌بک‌پہ، سیاسی بول‌براز کرتے افراد تو بالکل نہیں۔
یہ تو، کاز ہیں، اس ایفیکٹ کا۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.