پوسٹ – 2020-05-22

دوہزار انیس میں دوسو ستاون اموات ، پلین کریشن کی وجہ سے ہوئیں nدوہزار اٹھارہ میں ، پانچ سو چونتیس اموات
دوہزار انیس میں ، چھیاسی واقعات پیش آئے ، جس میں بڑے کمرشل جہاز، بھی شامل تھے ، nڈچ ایوی ایشن کنسلٹنسی کے مطابق ، ان حادثوں ، دو سو ستاون اموات ہوئیں nمارچ دوہزار انیس میں ، ایک سو ستاون افراد، لقمہ اجل بنے ،
جو کہ ایتھیوپین ائیر لائن ، کی فلائٹ تین سو دو میں سوار تھے nرپورٹ کے مطابق ، تقریبا ساڑھے پانچ ملین ، فلائٹس nیعنی تقریبا ہر پچاس لاکھ سے زائد فلائٹس nمیں سے ایک کو حادثہ پیش آیا ، جس میں بڑے مسافر بردار طیارے بھی شامل تھے ۔
جنوری دوہزار بیس کی ایک رپورٹ کے مطابق
سن دوہزار انیسnnکمرشل ایوی ایشن کے حوالے سے ،اب تک کا محفوظ ترین سال مانا جاتا ہے ۔
یہ رپورٹ ،ایو ایشن سیفٹی نیٹ ورک نے شایع کی ، جو کہ ، ہوائی حادثوں کی مانیٹرنگ اور ریکارڈ رکھتے ہیں ۔nnدوہزار ، اٹھارہ میں ، ایک سو ساٹھ حادثات میں ، تہرہ مہلک تھے ، جن میں پانچ سو چونتیس اموات ہوئیں ۔nnاس رپورٹ میں وہ اموات بھی شامل ہیں ، جو پلین کریش کے بعد ، زمین پر واقع ہوئیں ، خواہ وہ مسافر ہوں ، ہوائی عملہ ہو یا زمیین پر موجود افراد۔
جو مسافروں کی ایک بھاری تعداد لیے پوری دنیا کا سفر کرتے ہیں nاس تحقیق میں ، ، چھوٹے جہاز شامل نہیں ، nاس رپورٹ میں ، ملٹری فلائٹس ، ٹریننگ ، نجی طیارے ، کارگو طیارے ، یا ہیلی کاپٹر شامل نہیں ۔nnدوہزار انیس میں ، ہوائی حفاظت اور مانیٹرنگ ، بہت سخت ، آزمائش /سکروٹنی میں تھی ۔
خاص طور پر ، nاکتوبر دوہزار اٹھارہ میں
بوئنگ سات سو سینتیس نامی جہاز کو
پیش آنے والے خوف ناک حادثے میں nجس میں ، سوارایک سو اناسی n189 nافراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے nاسی کے پانچ مہینے بعد nیعنی nمارچ دوہزار انیس میں nایتھیپیا ائیر لائن ، کا طیارہ nایک سو ستاون افراد کو ، لیے ، تباہ ہوگیا
سب کے سب مارے گئے nجس کے بعدn سات سو سینتس بوئنگ میکس کا پورا فلیٹ گراونڈ کردیا گیاnnدوہزار سولہ میں طیارے حادثے کے ، اسو ساٹھ واقعات ہوئے nجس سے تیرہ بہت مہلک ، اور جان لیوا تھے ،
اور ان میں پانچ سو چونتیس اموات ہوئیںnnدوہزار سترہ ، اس حساب سے محفوظ ترین سال مانا جاتا ہے ، nجس میں کوئی خاص یا مہلک حادثہ پیش نہیں آیا ، nسوائے دو حادثوں کے ، جس میں تیرہ جانیں ضایع ہوئیں nnچلیں اب سب مل کر بولتے ہیں nیہ پاکستان ہے یہ ایسا
یہ پی آئی اے ہی ہی ایس
صرف ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے nپی آئی اے ، کا قصور ہے اس کی ایسی کی تیسیnn ، پی آئ اے کو لعن طعن ، اپنی نحس زدہ زندگی کی فرسٹریشن جہاز حادثے پر نکالنے کے بجائے ،جانے والوں کو ، ایک بار سورہ فاتحہ ، درود شریف، اور چار قل پڑھ کر بخش دیں، کہ انہں اب بس اسی چیز کی ضرورت ہے ، اور اس رمضان سے اگلے رمضان بلکہ ہر جانے والے کو ایک بار ، ان الفاظ کے ساتھ اپنی نیت میں شامل کرلیں، پوری زندگی کے لیے ۔nn”یا اللہ ، میری تمام عبادتوں/اعمال جو میں نے کیے ، اور جو میں کورں گا پوری عمر جتنی بھی لکھیہے ، اس کے کے ثواب کاایک حصہ ان افراد میں تقیسم کردےجو اس دنیا سے چلے گئے”

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.