پوسٹ – 2020-02-23

ڈپریشن/بےچینی کیوں ہوتی ہے، اور اس سے بچا کیسے جاسکتا ہے۔nnانسانی فطرت ہے کہ وہ کسی بھی کام کو شروع کرنے کے لئے کسی مناسب بلکہ پرفیکٹ وقت کا انتظار کرتا ہے۔
پہلے یہ ہوجائے پھر وہ کرلوں گا
پہلے وہ ہوجائے پھر یہ کرلوں گا
گویا ایک طرح سے اوور تھنکنگnnوغیرہ وغیرہnnلیکن یہ عادت بہت زیادہ تعطل کا سبب بن سکتی ہے
اور یہ تعطل، دباؤ یعنی ذہنی دباؤ اور بے چینی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔nnفیصلہ کرنے کی قوت کا کم ہونا یا فیصلہ نہ کر پانا، جذبات کا جوہڑ کر کے، جمود کی طرف دھکیلتا ہے
یہ بات ٹھیک ہے کہ ہر چیز کو پلاننگ یا مناسب منصوبہ بندی سے شروع کرنا چاہیے۔
پر یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ، کسی بھی کام کو شروع کرنے کے لئے بہت زیادہ پلاننگ، بہت زیادہ منصوبہ بندی نامناسب ہے ۔nnانسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ بنیادی معاملات کو طے کرکے ایکشن کی طرف جائیں۔n کام کو شروع کریں
تاکہ وقت ہاتھ سے نہ نکل جائے nnغلط طریقے سے ہی سہی ، ناقص انداز میں سہی، لیکن عمل کی طرف چل پڑنا، ہمیں تعطل سے بچالیتا ہے جو کہ نتیجتا، ہمیں دباؤ سے بچالیتا ہے۔n اور ہم ،آہستہ آہستہ، سیکھتے سیکھتے، پراسیس کا حصہ بنتے بنتے ،چیزوں کو درست کرتے چلے جاتے ہیں۔ nبھئی، بہت سی غلطیاں تو راستے میں بھی ٹھیک ہوجاتی ہیں نا۔nnاور جیسے جیسے آگے بڑھتے ہیں، ہماری پریشانیاں کم سے کم ہوتی ہیں۔nnہمیں خدشات کا سامنا تو پڑتا ہے لیکن ،ہم ان سے ڈرتے نہیں اور بہادری سے آگے بڑھتے چلے جاتے nnڈپریشن کا متفقہ حل nn یہ واحد متفقہ حل ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے، یعنی روزمرہ کی کچھ نہ کچھ پراگریس، اپنے مقصد کی طرف، اپنے ہدف کی طرف بڑھتے رہنے کے لیے ،کچھ نہ کچھ کرتے رہنا
بے چینی، ڈپریشن، اور ذہنی دباو سے بچا لیتا ہے۔nnخود سے یہ پوچھئے nکہ آپ کے پاس اگر دو آپشن ہیںnnپہلا
پلاننگ کرتے چلے جانا اور کچھ نہ کرنا یعنی ذہنی دباوnnمناسب پلاننگ/ منصوبہ بندی اور ضروری چیزوں کو سمجھ کر کام کو سٹارٹ کر لینا اور اس میں کچھ غلطیوں سے سیکھ کر ان کو درست کرلینا تلافی کرلینا، کچھ نہ سہی، تجربہ حاصل کرلینا یعنی بے چینی سے چھٹکاراnnآپ کا انتخاب کیا ہوتا ہے ؟
یہ مت بتائیں کہ کیا کریں گے
یہ بتائیں اب تک کیا کرتے ہیں

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.