پوسٹ – 2020-02-21

“مجھے لگا ” کا ذہنی عارضہ ۔nnسادہ سی مثال سمجھیں nnعورت مرد کے تعلقات پر بات کرنے والی عورتوں سے بس اتناپوچھو ، کتنے مرد وں سے تعلقات رہے ہیں nدو سیکنڈ میں ،شٹل کاک برقعہ اوڑھ لے گی nکمسن جانوبے بیز سے پوچھو ، عورت عورت کرر ہا؟
نکاح یافتہ ہے ؟ یا کتنی عورتوں سے پالاپڑا
یقینی طور پر ،بدتمیزی پر اتر آئے گا nاب یہ والی سوچ کلبلارہی ہوگی ، کہ مشاہدہ بھی ایک چیز ہوتا ہے
تو وہ ایک ہی چیز ہوتاہے ، اور رائے دینے یا اس پر مصر رہنے کے لیے nایک چیز درکار نہیں ہوتی
رائے بنانے ، دینے اور اس پر پکے پاوں رہنے کے لیے درج ذیل nچیزیں درکار ہوتی ہیں nحقائقn مشاہدہ
تجربہ nیہ تینوں چیزیں موجود ہوں ، ان کی اہلیت انکی سند ان کی کریڈیبلٹی پکی ہو ، nتب جا کر
انسان ، مفروضہ /گمان بناتا ہے nیعنی n، مجھے ایسا لگا ، مجھے یوں محسوس ہوا ، مجھے فیل ہوا ، میں نے سوچا شاید ایسا ہو ویسا ہو اس کے بعد بھی nبات ہوتی ہے ، عقائد کی ، nیعنی گمان تو بنا بیٹھے ہو ، ایمان یقین عقیدہ کیا ہے مذہبی نہ سہی سماجی معاملات میں ، nاور جب عقیدہ بنتا ہے یعنی یہ سب چیزیں کمبائن ہوتی ہیں nتب بنتا ہے nنتیجہ۔پھر جاتی ہے بات ، حل کی طرف
یہاں یہ
حساس زادے ، مرد ہوں یا عورت مجھے لگا کےذہنی مریض ،n آخری کام پہلے کردیتے ہیں اور پھر چوک پر، ہائے میں لٹی گئی ۔ہائے مجھے دیوار سے لگا دیا ، ہائے لوکو وے لوکو اس نوں روکوکرتے پھرتے ہیں

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.