ادارے جتنے بھی مضطرب ہوں ، وہ ہمیشہ آئین کے تابع رہتے ہیں nnشکر الحمد اللہ، پاک فوج زندہ بادnnمیرا خیال ہے ، کسی کے لیے بھی یہ کہنا ، نامناسب ہوگا کہ ، اس کیس کی سماعت ، مصنفانہ نہیں ، میں تو یہ کہوں گاکہ ، یہ انتہائی شفاف اور مںصفانہ فیصلہ ہے nnمیرا خیال ہے کہ ہر کسی کے ذہن میں جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ nمسٹر بھٹو کو پھانسی ہوگی ؟nnاس سوال پر میں بس اتنا کہوں گا، اور تاکید سے کہوں گا کہ ، انصاف کا بول بالا بہر صورت ہونا چاہئے , اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں اب خواہ وہ کوئی ، مسٹر اے ہو ، مسٹر بی ہو یا پھر ، خود میں ، جنرل ضیاالحق ۔
اور قانون و انصاف کا بول بالا ہر صورت ہونا چاہئے nیہ بدقسمتی ہے کہ ، اس جرم میں جو شخص ملوث ہے ، وہ سابقہ ویزر اعظم ہے ، وہ پیپلز پارٹی کا چئیر مین ہے nلیکن ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ یا کوئی اور بھی ہو کسی بھی سٹیٹس کا ہو ، قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ nnکیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ، اس وقت پاکستان کی حکومت ، عدالت کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے ؟nnنہیں ہم یہ نہیں کرسکتے ، جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا، یہ حکومت ہماری خیال کی جاتی ہے ، لیکن ، ہم آئین کے تابع ہیں اور ہم نے آئین کو منسوخ نہیں کیا ۔
یہ سوچنا انتہائی غلط ہے کہ ہم آئین کے خلاف جا کر ، کوئی کام کرسکتے ہیں یا کریں گے، عدالتیں آزاد ہیں ، اور ہم ان کی آزادی کا احترام کرتے ہیں nاور جیسا کہ میں بار بار کہتا رہا ہوں ، کہ عدالتیں ، کسی بھی ایگزیٹو یا کسی بھی عہدے سے مرعوب نہیں ہونی چاہیں ، وہ ان کے اثر سے آزاد ہونی چاہیں ۔، وہ بس انصاف کے لیے ہیں اور انہیں انصاف کرنا چاہئے nکیا آپ کی ، سپریم کورٹ کے جج سے گفتگو ہوئی ہے nنہیں ، بالکل نہیں ، یہ مکمل طور پر ججوں کا فیصلہ ہے ، ہاں میں نے فیصلہ پڑھا ضرور ہے ۔nnلیکن آپ نے کسی بھی طرح ، عدالت /ججز ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی ؟nnنہیں سر ، ایسا بالکل نہیں ہے ، ایسا شاید انگلینڈ میں ہو سکتا ہے ، یہاں نہیں nnجنرل سید ضیا الحق، صاحب کا ، انگلینڈ کے ایک صحافی کو دیا گیا انٹرویو۔
پوسٹ – 2019-12-19
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد