پوسٹ – 2019-12-07

گلابی افراد، اکثر، اوقات، آدھی بات کرتے ہیں
کیونکہ زنانہ ٹائپ کے ناقص العقل جو ہوتے ہیں اس لئے ایک طرف کی بات سمجھ پاتے ہیں nnمثلا nعورت مظلومیت میں طوائف بنتی ہےn مرد ٹھرک میں اس کے پاس جاتا ہے ہےnnعورت مجبور ہے nلیکن مرد توn بغیر کسی مجبوری کے بازاری عورت کے پاس چلا جاتا ہے ۔nnاب ایسے گلابی افراد اگر کسی فنی خرابی کا شکار نہ ہوں ، تو یقیناً انہیں یہ معلوم ہو کہ۔nn یہ جو مرد ہوتا ہے نا، اس کی مجبوری تیسری ٹانگ بن کر لٹک رہی ہوتی ہے۔n وہی مجبوری طوائف یعنی عورت کی مظلومیت بن جاتی ہے خیر ۔
اور عورت اپنی اس مظلومیت اور مجبوری کی پوری پوری قیمت وصول کرتی ہےnnفلاح و بہبود کے لیے کسی کی بستر کی زینت نہیں بن رہی ہوتیnnاگر اس بات کو ٹھیک مان لیا جائے تو کال بوائز کے بارے میں کیا خیال ہے nnوہ بھی مجبور ہوتے ہیں ؟
چلیں چھوڑیں
یہ موضوع نہیں
نہیں یہ صحیح غلط کی بحث ہے ہے بلکہ یہ تو محض ایک پوسٹ بلکہ ایک سوال اور اس کنفیوژن کا جواب ہےnnاور وہ یہ کہnnلکھنا ہو تو پوری بات لکھنا
ورنہ قلم کو ازار بند باندھ رکھناnnسمجھے بھوسی ٹکڑے کے گلاںی کھسروں

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.