#5nnعقیدے/موقف/خیال کا غیر ضروری دفاع۔
یہ ایک طویل موضوع ہے ، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ ، لوگ ، اپنے عقائد/خیال کو سچا قرار دینے کے لیے ، حقائق کو کیسے ، جیسے تیسے موڑ توڑ کر ، بیان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ، لوگ کی ا، اب تو یہ چیز ، اداروں ، ریاستوں ، اجتماعیت کا حصہ بن چکی ہے ۔
خصوصا ایسی اقوام میں ، جہاں ، بظاہر ، آزادی ہے ، لیکن آزادی نہیں ۔وہاں ، ایک خاص حد کے بعد ، حقائق کو توڑنے موڑنے اور بندے غائب کرنے کو حب الوطنی کہا جاتا ہے ، اپنی بات لاگو کرنے کے لیے ، بندہ مار دو، غائب کردو ، یہ عام ہے ۔
خصوصیت کے ساتھ جہاں بادشاہت موجود ہے ، یا ڈکٹیٹرز ہیں ، جب اوپر یہ حال ہے ، تونیچے عوام تو ویسے ہی نیچ ہونی ہے ۔
خیر ہے ، بات ہورہی تھی ، کہ اکثر اوقات، بھلے سے ، کتنا ہی ذہین فطین ، تعلیم یافتہ، پی ایچ ڈی ہو۔
جب وہ اپنے عقیدے کے دفاع پر اترے گا ۔تو وہ کسی پانچ سات سال کے بچے سے بھی ، ہلکی/سطحی ، کوالٹی کے فہم و ادراک کا مظاہرہ کرنےلگے گا ، کیوں کہ اسے بہر صورت اپنے عقیدے ک دفاع کرنا ہوگا۔ جو اس کے وجود، بقا کے لیے ضروری ہوگا۔ دیکھ لیں ، ایک چھوٹی سی مثال ہے ،
جنگیں کیوں ہوتی ہیں ؟ ایک موٹی سی بات ہے ، اسلحہ بیچنا ہے ۔
تو پھر ، جو لوگ اسلحہ بیچنا چاہتے ہیں ، ان کے لیے اپنے وجود کو جسٹی فائی کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ،
اب کسی کو ، جہاد پڑھا دو ، کسی کو طالبان بنا دو، کسی کو داعش، کسی کو القاعدہ ، کوئی بوکو حرام ہے ، تو کوئی ویسے ہی حرام ہے ۔ کوئی نیوئکلر وار ہیڈ کے الزام میں فٹ بیٹھ رہا ہے ۔ کسی کا نظریہ شدت پسند ہے ، کوئی لبرل ہے ، کوئی اینٹی لبرل ہے ، سب کو لڑوا دو، اسلحہ بکتا رہے۔
ایک انگریزی ٹی وی شو کا ڈائلاگ ہےnThe government couldn’t win the war on drugs, so they’re using it to fund the war on terrorismnیہ ایک جملہ ، ساری قلعی کھول کر رکھدیتاہے ، کہ بقا کی جسٹی فیکشن کے لیے ، ریاستیں کس لیول پر اتر آتی ہیں ۔
جب اس لیول پر یہ حال ہے کہ تو انفرادی طور پر عوام کا کیا حال ہوگا ،خود سوچ لیں یہ ایک بڑی وجہ ہوتی ہے ، آرگیومنٹ کی
حتی کہ ، اسے اگر یہ احساس بھی ہوجائے کہ وہ غلط ہے ، یا ، وہ جو بات کر رہے ہا ، اس پر اس کا یقین متزلزل ہورہا ہے ، سامنےو الے کی دلیلوں سے ، تب بھی وہ ، اسی پر چپکا رہے گا ، کیوں کہ وہ دلیل اس کی اپنی بقا اور بہتری کے لیے بہتر ہوگی ۔ اوردوسرے کی بات کو مان لینا ، اس کی ذہنی کیفیت اور معاملات پر اثر کرسکتا ہے ، بس اسی لیے وہ اپنی بات پر اختلاف در اختلاف جاری رکھے گا
پوسٹ – 2019-11-15
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد