پوسٹ – 2019-05-14

فیصلہ سازی nnاس مضمون میں ہم مندرجہ ذیل چیزوں کے بارے میں جانیں گے
قوت فیصلہ کیا ہے ؟nnفیصلہ سازی کے لوازمات
فیصلے کی اہمیتnnفیصلہ سازی کا فائدہ کیا ہے؟
فیصلے کے فقدان کے نقصانات؟nnفیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر کیسے بنایا جائے ؟nn nnقوت فیصلہ کیا ہے؟
قوت فیصلہ، بنیادی طور پرایک ایسا ذہنی عمل ہے جو کہ انسان کو موجود، آپشنز، ذرائع، وسائل اور منطقی معاملات میں سے بہتر اور ٹھیک رائے کو منتخب کرنے میں مدد دیتا- یہ سوچ کا وہ زوایہ ہے ، جو انسان کو کسی حد تک مستقبل کی تیاری میں مدد فراہم کرتا ہے ۔nn یہی نہیں بلکہ ، اکثر اوقات ، مستقبل بینی میں بھی کارگر ثابت ہوتا ہے ۔nnفیصلہ سازی کے لوازماتnnفیصلہ سازی کے لیے درج ذیل لوازمات موجود ہونے چاہیںnnانسان کو چاہیے کہ وہ منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں میں برابر وزن ڈالے ۔nnکسی بھی معاملے میں فیصلہ لینے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج اس میں موجود حقائق کا تجزیہ۔
ان تمام معلومات، اورممکنات کی مکمل چھان بین یعنی اس کے کل و جز کا معائنہ ۔nnکسی متبادل یا غیر متوقع صورتحال کےلیے ذہنی طور پر تیاری ۔nnایک اچھی قوت فیصلہ کے لیے ضروری ہے کہ فیصلہ لینے والا شخص اس فیصلے کے ممکنہ نتائج کی پیشنگوئی کرنے یا کم از کم کسی حد تک اس کو تصور کی نگاہ سے ، روبہ عمل ہوتے دیکھنے کا اہل ہو
اسے معلوم ہونا چاہیے کہ میں فیصلے کے لیے موجود ، ہر آپشن کو منتخب کرنے کے نتیجے میں کیا کیا الگ الگ ، اچھے برے نتائج نکل سکتے ہیں اس بات پر اس کی گہری نظر بلکہ نگاہ ہونا قوت فیصلہ کے لئے بہت ضروری ہے ۔nnقوت فیصلہ کی اہمیت
وقت بچا نے کا سبب۔nnفیصلہ ساز شخص کے وقار میں اضافہ۔
کام میں جی جان سے محنت اور کام کرنے کی لگن میں اضافہ ۔
تنازعات اختلافات کی وجہ سے ہونے والے وقت کے زیاں سے چھٹکارا۔
بروقت لیے جانے والے ٹھیک فیصلوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت۔nnقوت فیصلہ ہونے کا فائدہ
تھکاوٹ اور جھنجلاہٹ سے نجات
اختیار کا مثبت احساس
کام یا مقصد کے حصول کے لیے گرمجوشی کا پیدا ہوجانا
پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ
عزم کی مضبوطی
فوکس میں بہتریnnقوت فیصلہ نہ ہونے کے نقصانات
کہتے ہیں کہ کسی بھی چیز کا فیصلہ نہ کر پانا بذات خود ایک بدترین فیصلہ ہے۔nn یعنی ، بدترین فیصلہ ،فیصلہ نہ کرنا ہے۔
اگر آ پ فیصلہ سازی سے نابلد ہیں ، تو درج ذیل نقصانات کے لیے تیار رہیں
ناکامی کے ڈر کا غالب آ جانا
دوسروں کو مایوسی یا خوش کرنے کی فکر میں پریشان رہنا-nمناسب موقع کے انتظار میں ہر موقع ضائع کر دینا-nمایوسی کا شکار ہوجانا۔nnفیصلہ سازی کو بہتر بنانے کے طریقےnnمستقبل کی فکر کرنا چھوڑیں۔nnمستقبل کی فکر کرنا اچھی بات ہے، پر جب یہ حد سے زیادہ بڑھ جائے ،تو فیصلے کی قوت کو کھا جاتی ہے۔nn آپ زندگی اور لوگوں کے بارے میں جتنا اور جیسا بھی سوچ لیں وہ غیر متوقع ہی رہیں گے اور یہی زندگی کی خوبصورتی ہے۔
اسی لئے فیصلہ لینا عمومی طور پر رسکی ہوتا ہے۔
فیصلہ کرنا اہم ہے، نہ کہ اس بات پر سوچنا اور سوچتے چلے جانا کے فیصلے کے نتائج کیا اور کس حد تک ہونگے۔nn کیونکہ اس پر ہمارا کنٹرول نہیں کس لیے حد سے زیادہ سوچنا چھوڑیے اور فیصلے کی طرف قدم بڑھائیں۔nnاضطراری فیصلوں سے گریز کیجئے
کچھ افراد ہر وقت سوچتے رہنے سے اکتا کر ،اضطراری طور پر ایک فیصلہ لے لیتے ہیں۔nn جبکہ فیصلہ سازی ایک باقاعدہ عمل ہے جس کے سات حصے ہیں۔
جلد فیصلہ لینے اور جلدی میں فیصلہ لینے کا فرق سمجھیں۔ جلد فیصلہ لے لینا ، فیصلہ نہ لینے سے بہرحال بہتر ہوتا ۔nnہے فیصلہ لینے کے سات اصولوں ، اور اس پورے عمل کو سمجھ کر فیصلہ سازی کیجیے۔ نہ کہ اضطراری حالت میں۔nnوہ فیصلہ لیجئے جس میں ڈر زیادہ لگتاہو۔
جو افراد، ایک ہی رستے پر اس یقین سے چلتے چلے جاتے ہیں کہ یہ راستہ تنازعات ،محنت ، اور خدشوں سے پاک ہےnnیقین کیجیے انہیں خود پر بالکل یقین نہیں ہوتا-nnیہ عمل یعنی ان کا اسی طرح کے راستے پر چلتے چلے جانا انہیں ڈر کے مارے غلط فیصلوں کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی لئے کوشش کیجئے کہ فیصلہ یا آپشن وہ منتخب کریں جس سے آپ کو ڈر لگے۔
جیسے آپ تیراکی کرنا چاہتے ہیں تو لامحالہ آپ کو گہرے پانی میں جانا ہی ہوگا،nn لیکن اس سے پہلے پانی کا ڈر اپنے اندر سے نکالنے کے لیے کم از کم اپنے قد جتنے سوئمنگ پول میں تو کودنا ہوگا ۔nnنا کہ کنارے پر بیٹھ کر دوسروں کو نہاتے دیکھ کر کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے،تیراکی کروں یا نہ کروں کے مخمصے میں پڑے رہنا۔nn nnکیرولین میس ، نامی امریکن لکھاری کہتی ہیں کہnnمفید آپشن یا فیصلہ اکثر اوقات وہی نکلتا ہے جو آپ کو سب سے زیادہ خطرہ یا ڈر کا باعث لگتا ہوںnnاور ایسا فیصلہ ہی ، آپ کی شخصیت کے نکھار میں اہم کردار ادا کرتا ہے-nnدماغ اور وجدان کا متوازن استعمال
منطق یعنی دماغ آپکو ہمیشہ یہ سمجھائے گا کہ ، جس چیز میں میں خطرہ کم ہو اسی کو بطور فیصلہ منتخب کرو، اور اس وجہ سے عین ممکن ہے کہ آپ فیصلہ ہی لٹکا دیں کہ تھوڑی اور انفارمیشن تھوڑا اور وقت مل جائے تو پھر میں فیصلہ لو ں،nnاسی طرح خالصتا وجدان ، یعنی دل کی سننا ، جیسے عوامل ممکنہ طور پر اضطراری فیصلوں کی طرف لے جاتے ہیںnn اسی لیے کہا جاتا ہے کہ۔nn دل کی ضرور سنو لیکن ، دماغ کی موجودگی میں ۔nnماضی کے فیصلوں سے مدد لیں
آخر ماضی میں کبھی تو ایسا ہوا ہوگا ،کہ آپ نے کوئی فیصلہ لیا اور وہ آپ کے حق میں بہتر ثابت ہوا ۔nnتو ایسے لمحات، ایسے واقعات کے بارے میں سوچئے ۔جب آپ نے کسی چوائس پر رضامندی کا اظہار کیا،nn اور وہ لمحہ آپ کے لئے بابرکت اور کارگر ثابت ہوا۔nnگویا آپ کا وہ “ہاں” کہنا ہی مفید ہوگیا ۔nnغور کیجئے کہ وہ کیا عوامل تھے ؟وہ کیا حالات تھے؟ وہ کیا معاملات تھے؟ جو ماضی کے اس کامیاب فیصلے کی وجہ بنے ۔nn جب آپ اس طرح سوچنا شروع کردیں گے تو لامحالہ آپ فیصلے لینے کی حکمت عملی کے بارے میں سیکھ جائیں گے۔nnایسا فیصلہ کیجئے جو مستقبل میں مزید آپشن کو جنم دے۔nnکچھ چوائسز ،کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں ،جن میں لچک بالکل نہیں ہوتی اور آگے چل کر، وہ مزید ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔nn لہذا فیصلہ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیے، کہ آگے چل کر یہ فیصلہ ،ممکنہ طور، پر مزید آپشن کو جنم دے گا۔nn اس کا سادہ اور آسان سا طریقہ یہ ہے کہ ،nnایسے فیصلے کیجئے جو بظاہر مشکل ترین اور تقریبا ناقابل عمل لگتے ہو ،لیکن ان میں مستقبل بینی جھلکتی ہو کہnn وہ آگے جاکر آپشنز کی تعداد کو مزید بڑھا دیں گے ۔حتمی طور پر یہ اندازہ لگانا تو ممکن نہیں۔nn لیکن تھوڑا بہت لوجک اور وجدان کے مکسچر سےاتنا تو پتہ چل ہی جاتا ہے ۔nnمعجزاتی سوال کیجئےnnاب آپ ، فیصلہ لینے کے لیے تیار ہیں فیصلہ مشکل ہے ، لیکن وقت آچکا ہے ۔nnتو ایک لمحے کو رک کے خود سے پوچھئیے کہnn مثال کے طور پر کل صبح جاگنے پر آپ کی زندگی میں کسی قسم کی کوئی معجزاتی تبدیلی رونما ہو چکی ہو۔nn تو ایسی کون سی چیزیں ،کیا عوامل یا کس قسم کے معاملات ہیں ،جو اس بات کی نشاندہی کریں گے کہ،nn آپ کی زندگی پہلے سے کہیں بہتر ہوچکی ہےnn اس سوال کا فائدہ یہ ہوگا کہ، آپ اپنا مستقبل جھلکیوں کی صورت میں دیکھ سکیں گے ممکنہ طور پر ہی سہی، اندازوں کی حد تک سہی، آپ مستقبل بینی کرنے کے قابل ہو جائیں گے یعنی کہ جس میں آپ وہ فیصلہ لے چکے ہو اور اسکے نتائج بھی دیکھ چکے ہوں۔nnخلاصہ
اگرچہ یہ بات درست ہے کہ ہم نہیں جانتے مستقبل ہمارے لیے کیا لے کر آئے گا ، اور اس فیصلے کا کیا نتیجہ ہو گا لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ، ہر وقت اسی مخمصے میں رہا جائےnnمعلوم نہیں کہ یہ فیصلہ کرنے سے میرا تاثر کیا پڑے گا؟nnایسا کرو ں تو کیسا ہوگا ؟nnکیا کروں تو کیسا ہو؟nnکیوں کہ مستقبل میں آپ کے کنٹرول میں نہیںnnلہذا، دماغ کو منطقی تجاویز دینے دیجیے، امکان یہی ہے کہ جو چیز بہت زیادہ ڈرا رہی ہو، فیصلہ بلکہ ، ایک اچھا اور مفید فیصلہ بھی اسی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.