پوسٹ – 2019-05-03

آخری قسط – پہلا حصہnnکردار جب قلم تھامنے لگے، تو سمجھ جاو، کہانی کا انجام بدلنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ nnیہ کہتے ہوئیے ، لکھاری نے قلم پلیٹ فارم پہ پھینک دیا۔
اسی لمحے ٹرین کی وسل سنائی دی، اور گاڑی ہولے ہولے سرکنے لگی۔
وہ بجھی سگریٹ ہونٹوں اٹکائے کھڑکی سے باہر ، اندھیرے میں گم ہوتے پلیٹ فارم کو دیکھ رہا تھا، پٹریوں کی چمک اس کی مسکراہٹ کی مانند، ماند پڑ رہی تھی
یکایک اس کے سمر شیو آلود چہرے کے سامنے ایک شعلہ بھڑکا، اور اگلے ہی لمحے، کڑوا دھواں اس کے چہرے کو دھند کرگیا۔nnلیکن اب تم انجام کیسے لکھو گے ؟n یہ نشا تھی۔۔۔
اس کی محبوبہ ، جو اسے بجھی سگریٹ کے ساتھ دیکھتی تو فورا لائیٹر سے سگرٹ کو شعلہ دکھا دیا کرتی۔ nاسے معلوم تھا کہ اس کے ہونٹوں میں اٹکی بجھی سگریٹ کسی کردار کی بے نوائی پر منتج ہو گی یا پھر پوری کہانی ادھوری رہ جائے گی اور ایسا تب ہوتا جب کوئی کردار شدو مد سے اپنا آپ لکھاری پر غیر ضروری ثابت کردیتا۔
آں، ہاں کیا کہہ رہی ہو؟n وہ جیسے نیند سے جاگاn میں یہ پوچھ رہی ہوں تم نے قلم کو توڑ کر پلیٹ فارم پہ پھینک دیا ہے کیا تم منزل تک پہنچنے سے پہلے کہانی کو انجام دے دو گے
وہ مسکرایا nجواب دو نا
وہ مچلی تھی، زہر لگتی تھی، سناٹوں کی سیج پہ اس کی نوبیاہتا بیوہ سی مسکراہٹnn۔اس نے نشا کو بازو سے پکڑ کر قریب کیا ہونٹوں کی کان کی لو سے ٹکرا کہ پھنکارا
کبھی سوچا ہے کہ اس کردار پر کیا بیتتی ہو گی جس کی کہانی بے انجام رہ جائے ؟ اسی لئے کچھ کہانیاں ادھوری ہی پایا تکمیل تک پہنچتی ہیں۔؟nn یہ کہتے ہوئے اس نے سگریٹ پھر سے بجھا کر کھڑکی سے باہر اچھال دی۔
ماحول میں اب پٹریوں کا بین اور ٹرین کے قہقہے مدغم ہو رہے تھے۔ اور اس کے چہرے پہ سناٹا چھاجوں برس رہا تھا۔
نشا کو اس چہرہ آج بارات کو نوچتے کسی گدھ کا سا سفاک لگا۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.