پوسٹ – 2019-05-03

آخری قسط – دوسرا اور آخری حصہnnعصر کے بعد نماز جنازہ ہے
اسٹیشن کے قریب گاوں کی چھوٹی سی مسجد سے اعلان سنائی دیا۔nn تمام باراتی تھکے قدموں سے وضو کر کے عصر کی تیار کرنے لگے، ان میں مقتول دولہے کا باپ بھی تھا۔
اس کی دنیا اندھیر نہیں قبر ہوگئی تھی۔ اسے اب ثواب و عذاب کا تصور ہی سمجھ نہیں آرہا تھا۔
ابھی دو ہفتے پہلے تو اس کے بیٹے نے فون کر کے خوشخبری سنائی تھی
بابا میری کتاب چھپ گئی۔
اس نے موقع غنیمت جانتے ، بیٹے کا موڈ دیکھتے ہوئیے اسے اس کی بچپن کی منگ یاد دلائی تھی، جو چھ سال سے اس کی منگنی طوق بنائے، کتاب چھپنے کے انتظار میں بیٹھی، جذبوں کو جھریاں کر رہی تھی۔ nبیٹا کہنے لگا
بابا بس چند دن میں میں گاوں آکر اپنا وعدہ پورا کروں گا
سرخ ہوتی قمیص کی جیب میں آج قلم کی جگہ خالی تھی، گولی دل کو چیرتی ہوئی لکھاری کی کہانی کو انجام کرگئی تھی۔
یہ سب اس نامساعد لالچی عشق کا نتیجہ تھا جس کے چکر میں اس نے پبلشر کی بیٹی سے ، شادی کے وعدے کا ڈھونگ رچایا تھا، اور اسے اس کی خواہش کے عین مطابق بارات والے دن بھگا لیا تھا ، اس نے سوچا تھا کہ رستے میں کہیں کسی سٹیشن پر بے نوا سا وداع کر کےاندھیرے میں گن ہوجائے گا ، محض لفظوں سے کو تین لاکھ روپوں کے عوض، کتاب کی شکل میں لانے کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اسے اپنی منگ بھول گئی تھی۔ کہانی کا انجام اس کے ہاتھ سے پبلشر کی گولی نے اچک لیا تھا، ایک رشتے دار نے انہیں سٹیشن کی بس میں بیٹھتے دیکھ کر پبلشر کو لکھاری کا حلیہ ، لکھوا دیا ، اطلاع ملتے ہی ٹرین کے تمام بڑے سٹیشن پر پبلشر کے گرگے اور لکھاری کی تصویر پہنچ گئی تھی۔ nاسے ٹھیک سے قتل کرنا، ان کا مشن تھا nnلفظ، اس بار لکھاری کو کھا گئیے تھے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.