پوسٹ – 2016-07-16

“بیٹا دیکھو ازدواجی تعلق عین حلال ہیں نا ۔۔ “nجی اگر اپنی ہی بیوی سے ہوں تو ۔۔ nہاں یار ظاہر ہے nتو؟
تو بیٹا کیا ان حلال تعلقات کا اظہار بیڈ روم سے باہر مناسب ہے ؟n سر جی حلال رزق پبلک میں کھانا جائز ہے نا ۔۔ ؟
ہاں بیٹا وہ رزق ہے nبیویاں تمھاری کھیتی ہیں nزوہیب حرامی پن نہیں کرو
سوری آپ صحیح کہہ رہے ہیں جی بالکل صحیح کہہ رہے ہیں میں جانتا ہوں اور مانتا بھی ہوں کہ ان سب کا اظہار پبلک میں غلط ہے۔لیکن اس بات کا مقصد کیا ہے nہاں تو بس بیٹا منٹو بھی معاشرے کی سچائیوں کا ایسا ہی سوداگر تھا
تو منٹو نے پبلک میں کیا کیا ؟
بیٹا اس نے کتابوں میں لکھا لوگوں نے پڑھا nتو یہ جو “سہاگ رات گزارنے کے جائز طریقے” کے مفتی صاحبان میں لکھے ہیں وہ بھِی تو کتابوں میں ہیں ۔ ذرا پڑھ کے دیکھیں ۔ مشکل اردو کے ساتھ جو لذت آئے گی منٹو تو پھر دودھ پیتا بچا لگے گاان کا ۔۔
ہاں بیٹا تو کہنا کیا چاہ رہے ہو۔
کچھ نہیں ۔ آپ نے ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑھا ہے ؟ nنہیں ، nآپ نے ٹھنڈا گوشت، کالی شلوار ، پڑھے ہیں nہاں بیٹاn شاباش ، تو وضو کی ضرورت آپ کو ہے م۔۔نٹو کو نہیں nپچاس کھیروں میں دس بیس کڑوے نکل آئے تو آپ بھڑ _ ے کیوں بن گئے nایک منٹ او کنجر تو نے یہ کھیرے کی مثال کیوں دی ؟
منٹو کے معاملے میں آپ لمبائی پر سوچتے رہے ، اونچائی پر سوچتے تو بات کچھ اور ہوتی nاو جا بھئی کام کر ۔۔
کس کا ؟
ابے جانا ۔۔ بیپ بیپ بیپ
کیا ہوا فحاشی کیوں پھیلا رہے ہیں لول ، اچھاآپ کو وہ والی کتابیں سینڈ کروں؟ جو مولویوں نے لکھیں nابے جا نا دفع ہو
دلیل اونچی کریں ، آواز نہیں nورنہ دودھ اور گا_ڈ پھٹنے کی آواز نہیں آتی nشاباش بائے بائے ۔nn- اردو کی ناقابل اشاعت کتاب سے اقتباس

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.