پوسٹ – 2016-07-10

یاد رکھو جب تم اپنے گھر میں اپنی بات نافذ نہیں کر سکتے تو تم کہیں کچھ نہیں کر سکتے ۔۔ تمھارے باس دو آپشن ہیں nn1) طے کرلو کہ تم نے ایسی ہی ذلت بھری ، decision less زندگی گزارنی ہے جہاں تمھارے فیصلوں کی اوقات نہ ہو اور تمھیں “آبھی تم بچے ہو تمھیں دنیا کا پتہ ہی کیا ” کہہ کر چپ کرودیا جائے ۔۔ پھر تم اپنے آپ کو ذہنی غلام سمجھ لو تب بھی سکون میں رہو گے nn2) فیصلہ کرو اگراللہ سے قوت سے فیصلہ طلب کرو۔۔ اور پھر آنے والی مشکلات، لوگوں کی باتیں ، کولیگز کی بکواس، رشتے داروں کی چک چک یہ سب ہنے کے لیے تیار رہو، ڈھیٹ بلکہ کسی حد تک بے غیرت اور بے شرم بن جاو حد سے حد ایک دو سال سہنا پڑے گا ۔ پھر تمھاری بات میں کوئی ٹانگ نہیں اڑائے گا اور تم دنیا میں کچھ بڑا کرنے کی ہمت کر سکو گے nnنوٹ : ماں باپ کہتے ہیں کہ ہم تمھارا برا نہیں چاہتے ،اس بات میں کوئِ شک نہیں ماں باپ کی نیت بری نہیں ہوتی لیکن ضروری نہیں کہ نتتیجہ بھی اچھا ہو۔۔ کیوں کہ ماں باپ کی سادگی بھرا خلوص آپ کی قوت فیصلہ کے لسوڑے لگوا سکتا ہے ۔۔ دنیا میں جس نے کچھ بڑا کیا ہے اس نے تبدیلی کی شروعات گھر سے کی ۔۔ دینی یا دنیاوی ۔اس سے قطع نظر ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.