تزئین آج پھر وہیں ساحل سمندر پر موجود تھی ، جہاں ہمیشہ سے وہ اور اس کا شوہر آیا کرتے تھے ۔۔ بس اس بار وہ اکیلی تھِی ، پاوں سسے ریت کو کریدتے وہ سوچ رہی تھی یہ چھ مہینے میں کیا کایا پلٹ ہوئی ، کہ آج وہ یہاں اکیلی بیٹھی ہے ، فضا کی نمی اسے خشک لگ رہی تھی ، آنسو ریت میں گر گر کر گھلتے جا رہے تھے لیکن تھم کے نہ دے رہے تھے ، ابھی چھہ مہینے پہلے کی تو بات ہے جب وہ اور عرفان ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھنتوں یہاں گھوما کرتے تھے ، نئی نویلی شادی انجوائے کیا کرتے تھے ، اکثر عرفان اسے گرل فرینڈ کے طور پر ٹریٹ کرتا ، کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ اس نے پولیس کی آمد پر بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ نکاح شدہ ہہیں ۔۔ لیکن کب تک یہ سب چلتا ، شہر میں دفعہ 144 نافذ تھی وہ دونوں اس سے بے نیاز وہیں گھوم رہے تھے ، نیو ائیر کی پوری رات ان کا ارادہ ساحل پر ایک دوسرے کو تکنے کا تھا ، تکتے تکتے تھکنے کا جو لطف شادی شادہ جوڑے کو آتا وہ شاید کسی بھی جسسمانی لذت سے اوپر کی چیز تھا وہ تزئین کے لباس پر گیلی مٹَی سی نام لکھا کرتا ، پیار بھری باتیں کیا کرتا ، خصوصا تزئین کے جسم پر جہاں جہاں تل تھے وہ وہاں وہاں کپڑوں کے اوپر فرضی تل بنایا کرتا تھا ۔۔یہ سب یاد کرتے ہوئے تزئین رو پڑی ، اسے احساس ہوا پیچھے کوئی کھڑا ہے ، پلٹ کر دیکھا تو ایک بھکاری اس کی طرح شہوت انگیز نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ، اسے اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کیسے چلتے چلتے یہاں تک آگئی سورج ڈوب رہا تھا ساحل ویران تھا دور کہیں بہت دور لوگ بونے سے نظر آرہے تھے ، تزئین کا لباس گیلا پو کر ا س کے جسم سے چپک گیا تھا اسے احساس ہی نہ ہوا کہ بھکاری کب سے اس کی کمر کو گھور رہا ہے اس کی طلب پیسوں کی بھیک نہیں تھی ۔۔nn”کیا چاہئے تم کو ؟” nتزئین نے ڈرے ہوئے مگر غصیلے لہجے میں پوچھا
بھکاری کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ ابھر آئی ۔۔n”تم “nیہ کہہتے ہوئے اس نے تزئین کے بالکل اس حگہ ہاتھ رکھا جہاں تل تھا
تزئیں سٹ پٹا کر پیچھے ہٹی اس کا پاوں الجھا ، اور وہ ساحل پر کمر کے بل گر کر کھلی کتاب بن گئی ، بھکاری اس کی طرح بڑھا nکہ اچانک فضا فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھی۔۔nnبھکاری ایک طرف کو بھاگ کھڑا ہوا۔۔
پوسٹ – 2016-07-10
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد