پوسٹ – 2016-07-09

بس تفریح
آپ اللہ کے “الصمد” پر غور کیجئے آپ کو قدرت سے کئے گئے سارے شکوے آنسووں میں گھلتے ہوئے محسوس ہوں گے ،مجبوری یہ ہے کہ یہ آپ آپ اور کیجئے کیجئے لکھنا بڑا اذیت ناک لگ رہا ے ۔ وجہ بس یہی ہے کہ ٹاپک ایسا ہے ۔ خیر تو آپ غور کرتے رہیں ، الصمد کیسا وصف ہے کہ جس کا مطلب ہی “بے نیاز” ہے ۔ اپنی کم عقلی سے بس میں اتنا سمجھ سکا ہوں کہ جس طرح ہم کوئی بھی کام قطع نظر اس سے وہ کیسا ہے ۔۔ کر بیٹھتے ہیں جو ہماری نظروں میں صحیح ہوتا ہے اور دنیا کہتی ہے “اے کی کیتا ای” تو ہم بجائے ان کو سمجھانے کہ ان کی طرف مسکرا کر ایسے دیکھتے ہیں کہ “ابے جا نا اب تجھے کیا سمجھاوں تجھے کیا سمجھ آئے گا ۔”، یعنی ڈی گریڈ نہیں بلکہ بھائی تیری فیلڈ نہیں تو نکل ابھی شابا ش ۔۔یا پھر ۔ ابے تو ہوتا کون ہے مجھ سے وضاحت مانگنے والا ۔ تو بس شاید یہ الصمد یعنی بے نیاز کا مطلب بھی جو میرے چھوٹے سے گالیوں بھرے ناقص ذہن کو سمجھ آتا ہے وہ یہی ہے کہ اللہ پاک بہت سارے کام کرتا تو ڈیزائن کے مطابق ہے لیکن چونکہ اس کا ڈیزائن ازل سے ابد تک پھیلا ہوا ہے اور ہم ہسٹری کو مسٹری سمجھتے ہیں اور فیوچر کا کچھ پتہ نہیں ۔۔ تو ہمیں لگتا ہے کہ قدرت کافی غیر منطقی حرکتیں کر رہی ہے ۔ حالانکہ ہمیں نہ ڈیزائن پتہ ہوتا ہے نہ نتائج کا۔۔ بس شکوے کرنے لگتے ہیں ۔ اور پوچھتے ہیں کہ اللہ تو نے یہ کیوں کردیا ، یا تجھے ابھی ہی یہ کرنا تھا ۔۔ ابھی تو میں یہ کر رہا تھا ابھی تو وہ کرنا تھا ۔۔ ہم حال میں رہ کر قدرت کے ایکشنز ناپ رہے ہوتے ہیں اور وہ پورا ڈیزائن فیوچر کے لحاظ سے فکس کر کے بیٹھا ہوتا ہے ۔ جس وقت ہم اللہ سے شکوے کرتے ہیں کہ بتا تو نے یہ کیوں کیا اور وہ خاموش رہتا تو سمجھ جایا کریں کہ اللہ تبارک و تعالی چوتھے آسمان سے جھک کر کہتا ہے “بس تفریح میں ” کیوں کہ اس کے پاس وقت تو موجود ہے کہ آپ کو سمجھائے بلکہ زمانہ تو وہ خود ہے۔۔ لیکن آپ کے پاس اوقات نہین کہ سمجھیں ۔۔ ورنہ کتنا ٹائم لگے گا کہ وہ آپ کو خواب کے ذریعے سمجھا دے ۔۔ لیکن کیوں ؟اگر سمجھادیا تو پھر “بے نیازی اور الصمد ” کا مزا کیسا ؟ آپ بس چپ چاپ اپنا کام کیے جائیں رزلٹ اس پر چھوڑ دیں ۔۔ ورنہ کم از کم اپنی دعا اور شکووں کے جواب میں اس کی خاموشی کو مسکراہٹ سمجھیں اور یہ دو لفظ دوہرائیں ۔۔”بس تفریح”، اور ساتھ میں الصمد کا ورد۔ اور کچھ سمجھنا ہے تو پہلے محلے کی کسی بااثر ہستی کے کئے گئے کچھ نا سمجھ میں آنے والوں کاموں کا شکوہ کر کے دیکھیں ۔ آپ لوگوں کو “اللہ” ہی ملا ہوا ہے سارے شکوے شکایتوں کے لیے ؟ شکووں کو فریاد یا دعا میں بد ل لیں ورنہ وہ “بس تفریح ” کہتا رہے گا اور آپ تپتے رہیں گے ۔ نقصان آپ کا ہی ہے ۔۔ وہ پاور سورس ہے آپ نہیں ۔۔ آپ ایک چھوٹے سے لوڈ ہیں دنیا کے اس سرکٹ میں جس کا سوئچ ایک دن آف ہوجانا ہے پاور سورس سے تعلق بنائے رکھیں وہ آپ کو جگمگاتا رکھے گا ۔۔ناز خیالوی نے اس خیال کو کچھ کو یوں سمویا ہے۔۔۔۔nnسوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہوnnخود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہوnnتم اک گورکھ دھندہ ہو

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.