ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب کا ادبی قد اپنی جگہ اور ان کی کی کچھ باتوں سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ایک بات جو ممتاز مفتی نے “رام دین” میں لکھی وہ بڑی کمال ہے ان کے الفاظ کاپی کرنے کی جرات تو نہیں لیکن جو کچھ سمجھ میں اس طرح ہے”nn”خدا کے کئی روپ یعنی قدرت کی کئی اشکال ہیں ۔۔ کبھی قیام پاکستان کی بارڈر میں مزدروں کی طرح کام کرتی ہے ، کبھی کوہ طور پر براجمان ایک عظیم فرمانروا کی شکل میں سامنے آتا ہے ، کبھی ایک معصوم سے بچے کی شکل میں جس کا ہاتھ پکڑ کر آپ اس کو پیار کرتے رہو جیسے وہ بدو کیا کرتا ہے حضر موسی کے زمانے میں ۔۔ یاد ہوگا آُ کو وہ واقعہ جس مین بدو کہا کرتا تھا کہ اے اللہ تو مجھے ملے تو میں تیری کنگھی کروں تجھے پیار کروں تیرے بال بناوں تیری مالش کروں ۔۔ تو بس خدا کی ذات کو سمجھںے کے بجائے اس سے پیار کرنا ، اس سے ڈرنا ،اس سے پسند کرنا سیکھِے ۔۔

اترك رد