یاد رکھئے جب تاک آپ زبان کے اصولوں اور اسلوب کے غلام رہیں گے ، جب تک آپ کو لگتا رہے گا کہ آپ مصنف ہیں ، لکھاری ہیں ، بلاگر ہیں ، کالم نگار ہیں جب تک آپ انسان کی بنائی ہوئی منافقانہ اخلاقیات کو الہامی سمجھتے رہیں گے ، اس وقت تک آپ کے الفاظ ، گاو تکیے لگائے ، حقہ سامنے رکھے ، پان کی گلوری لگائے ، آپ کو ” تماش بین ” والی نگاہوں سے دیکھتے رہیں گے ۔۔ اور آپ وہی ہوں گے جن کو تماش بین دیکھا کرتے ہیں

اترك رد