اور پھر یہ شعرnnخود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہوnnیعنی آپ کے جو مزاج میں آئے آپ کرتے ہو ۔۔ آپ سے کوئی سوال جواب نہیں۔۔ جس چیز کو مولوی شکوہ سمجھتے ہیں ۔۔ وہ در اصل اظہار ہے۔۔ اظہار اس صفت کا ۔۔ جس کو ہم بے نیازی کہتے ہیں۔۔ کہ اللہ کی بے نیازی کی صفت سے ہی اس کی خدائی کے اشکال سمجھ آنے لگتے ہیں ۔۔ یعنی آپ کو جو سمجھ نہین آتا آپ بھی تو یہی کہتے ہو ۔۔ بس جی اللہ کے کام ہیں اللہ جانے ۔۔تو آپ کی بے بسی کا یہی اظہار “الصمد” کہلاتا ہے۔۔۔ فتوے بازیاں چھوڑ کر قادیانیوں پر فوکس کرو۔۔ جو تمھاری فیلڈ ہے nnthere is a storm coming Mr. Molvie
پوسٹ – 2016-07-02
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد