مرد پیدائشی مزدور ہوتا ہے ۔ کھودنے اور کھانے والا ۔۔۔ اگر وہ اپنے اس کردار کی نفی چاہئے تو فطرت اس کو غدار قرار دے کر اسے غلام کردیتی ہے ۔۔ ایسا غلام جس کو دو وقت کی روٹی بھی کھودنے اور کھانے سے ملتی ہے ۔۔ بلکہ سانس لینے کی اجازت بھی اسے پھر اس عورت سے لینی پڑتی ہے جس کی چوکھٹ پہ فطرت اسے غلام بنا کر پھینک دیتی ہے ۔۔زیادہ اذیت اس وقت ہوتی ہے ۔۔ جب مرد سے اس کے مزدور ہونے کا احساس چھین کر اسے غلام بنا دیا جائے اور کام اس سے مزدوری والا لیا جائے ۔۔ کھودنا اور کھانا ۔۔ بہت اذیت ہوتی ہے ایسے مرد کی زندگی جس سے اذیت کا احساس چھین لیا جائے ۔۔ یہ احساسات ہی تو ہیں جو مرد کو مرد رکھتے ہیں ۔۔ غلام بن کے تو بس وہ ایک پروگرامڈ روبوٹ بن جاتا ہے۔۔ کٹھن زندگی اور اپنے فطری کردار سے دوری اسے پھر کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔۔ وہ کولھو کا بیل بن کر رہ جاتا ہے ۔۔ ایسا بیل جیس آنکھوں پر غلامی کے چشمے ہوں ۔۔ جو اپنے تئیں گم گشتہ منزلوں اور طویل مسافتوں سے اٹا ایک راہی ہوتا ہے ۔۔ پر حقیقت میں وہ بس ایک دائرے میں چکر کاٹ کاٹ کر ایک ہی کھونٹے کے گرد گھومے جارہا ہوتا ۔۔ جسے عورت فخریہ انداز میں “ون وومین مین” کہہ کر متعارف کرواتی ہے ۔nn- سبزی منڈی کی بھکارن سے اقتباس

اترك رد