پوسٹ – 2016-06-04

ایک بار حضرت عمر رضی الله عنه بازار میں جا رہے تھے، وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو دعا کر رہا تھا، “اے اللہ مجھے اپنے چند لوگوں میں شامل کر، اے اللہ مجھے اپنے چند لوگوں میں شامل کر”۔
عمر رض نے اس سے پوچھا، یہ دعا تم نے کہاں سے سیکھی؟ وہ بولا، اللہ کی کتاب سے، اللہ نے قرآن میں فرمایا ہےn”اور میرے بندوں میں صرف چند ہی شکر گزار ہیں۔”(القرآن 34:13)nحضرت عمر یہ سن کر رو پڑے اور اپنے آپ کو نصیحت کرتے ہوئے بولے،”اے عمر ! لوگ تم سے زیادہ علم والے ہیں، اے اللہ مجھے بھی اپنے چند لوگوں میں شامل کر۔”nہم دیکھتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص سے کوئی گناہ کا کام چھوڑنے کا کہتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ اکثر لوگ کرتے ہیں ۔ میں کوئی اکیلا تو نہیں۔ اگر آپ قرآن میں “اکثر لوگ” سرچ کریں تو “اکثر لوگ”n”نہیں جانتے” (7:187)n”شکر ادا نہیں کرتے”(2:243)n”ایمان نہیں لائے”(11:17)nاگر آپ “زیادہ تر” کو سرچ کریں، تو آپ کو ملے گا کہ زیادہ تر لوگ،n”شدید نافرمان ہیں”۔ (5:59)n”جاہل ہیں” (6:111)n”راہ راست سے ہٹ جانے والے ہیں۔”(21:24)n”سوچتے نہیں۔” (29:23)n”سنتے نہیں” (8:23)nتو اپنے آپ کو چند لوگوں میں ڈالو جن کے بارے میں اللہ نے فرمایاِ،n”میرے تھوڑے ہی بندے شکر گزار ہیں”(34:13)n”اور کوئی ایمان نہیں لایا سوائے چند کے”(11:40)n👈چند لوگوں میں اپنے آپ کو شامل کریں اور اس کی پرواہ نہ کریں کہ اور اس راستے میں نہیں اور آپ اکیلے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یا اللہ ہمیں بھی ان کم لوگوں میں شامل فرما ۔۔ آمین ثم آمینnnvia whatsapp

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.