نوٹ: اس واقعے کا ہر لفظ سچ ہے ۔ کیوں کہ ظاہر ہے میری وال پر ہے ۔۔ تو حق ہی ہوا نا۔ کردار اور مقامات کی کھوج میں پڑنے والوں کو گالیوں بھرا نذرانہ عقیدت پیش کیا جائے گا۔nnکچھ عرصہ قبل ، ہم نے ایک مسئلہ داعش اسٹائل میں حل کیا۔ یعنی تلوار سے مکھی ماردی ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم nip the evil in the bud کرنے کے عادی ہیں بس اور کچھ نہیں خیر تو مکھی کی میت پر تو ایک صاحب سراج الحق بن کے آئے ، یعنی ہمیں یہ سمجھانے کہ ہماری ڈیمانڈ سہی تھی لیکن طریقہ غلط تھا۔۔ nان صاحب نے دوسری پارٹی کو بھی سمجھایا۔۔ بات آئی گئی ہوگی ۔۔
پھر ایک دن ہماری کسی کمینگی کی وجہ سے ان صاحب کے گھونسلے پر ہاتھ پڑگیا۔۔ اور یہ ہم نے جان بوجھ کر نہیں مارا تھا۔۔ وہ صاحب حق پر تھے اور ہم کمینگی پر۔۔ یکایک احساس ہوا کہ چلو ان کی اخلاقیات کا ٹیسٹ لیتے ہیں یعنی ہمیں پتا ہے کہ وہ صحیح بات کررہے ہیں ، پھر بھی ہم اپنی کمینگی پر مصر رہے ۔۔ تو جناب پتا ہے کیا ہوا ؟۔۔
ہوا یہ کہ ۔۔ پوری دنیا کو اخلاقیات کی نوک پر رکھنے والے صاحب کے منہ سے جو پہلی گالی نکلی وہ بہن کی تھی ۔۔ ہم ہنس دیئے ۔۔ اور ان کو بات مکمل کرنے کا موقع دئے بغیر مخل ہونے لگے بار بار کی مداخلت سے پہلے ان کی آواز اونچی ہوئی ، پھر لہجہ بگڑا ، اور آخر میں گالی ۔۔ معاملہ مزید بڑھایا جا سکتا تھا۔۔ لیکن پھر سوچا۔۔ ثابت ہوا کہ nاخلاقیات کے میٹھے لیکچر اس وقت تک دینا بہت آسان ہوتا ہے ۔۔ جب تک اپنا پیٹ بھرا اور گھونسلا آباد ہو۔۔
پوسٹ – 2016-05-31
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد