اگر کوئی عورت آپ سے پوچھے کے عورتوں کی تعداد جہنم میں زیادہ کیوں ہوگی ۔۔
تو خدا کے واسطے اس کی حدیث کے حوالے مت دینا۔۔ اس نے اس میں بھی بحث کرنی شروع کردینی ہے ۔۔ سمپل بات کرنا۔۔ بھئی دنیا میں عورتون کی تعداد زیادہ ہے ۔۔ اب جہنم بھرنے کے لیے اللہ تعالی ایکسٹرا مرد تو پیدا نہیں کرے گا۔۔ اور کرے گا بھی تو اس نسبت سے یہ تناسب عورتوں میں بھی بڑھے گا۔۔ زیادہ تر بیچارے تو۔۔ عورتوں بھری جہنم روز بھگتے ہوںگے ۔۔ بات وہی ہے ۔۔ عورت سے بحث نہیں ۔۔ نہ اس نے پیار کی سمجھنی ہے نہ غصے کی ۔۔ عورت کو objectify کرو ۔۔ اس کو بچے کی طرح ٹریٹ کرو۔۔ وہ بھی ایسا بچا جو بگڑا ہوا ہو۔۔ جس کو بس سختی سے پیش آو۔۔ جب کوئی کام کروانا ہو تب ۔۔ اور جب وہ کام کر لے ۔۔ اور صحیح کرلے ۔ بجائے اپنی تین پانچ کرنے کے ۔۔ تو اس کو شاباشی دے کر۔۔ اس کا حوصلہ بڑھاو۔۔ یہ سمپل فارمولا ہے ۔۔ بات سختی سے منوائو۔۔ اور انعام نرمی اور کھلے دل سے دو۔۔ خوش رہے گے ۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کم از کم پانچ مردوں کو ۔۔ اپنی اپنی بچیوں کے سامنے ۔۔ کتے کے منہ کا چھیچھڑا بنے ہوے ۔۔ میں خود بنتے بنتے بچا ہوں ۔۔ عین وقت پر۔۔ ایک دو ٘مخلص حضرات سے بات چیت ہوئی ۔۔ جو اس فیلڈ کے گرو ہیں ۔ کچھ ان کی سنی کچھ اپنی مکس کی اور نتیجہ یہ نکلا ہے جو اوپر لکھا ہے ۔۔ اس میں کسی ڈسکشن کی گنجائش نہیں ۔۔ عورت ایسی ہے ایسی ہی رہے گی ۔۔ عورت کو بدلو مت۔۔ اس handle کرو۔۔ ورنہ وہ آپ کو پورا stand, carrier اور بھی کافی کچھ کر دے گی ۔۔
پوسٹ – 2016-05-26
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد