پچاس روپے کا پٹرول nnپچا س روپے کے پٹرول کی اوقات ہی کیا ہوتی ہے ؟ نہیں مطلب ۔۔ آپ سوچیں نا ۔ ایک لیٹر کی بوتل وہ بھی خالی ۔۔ اس میں آدھے میں ہوا اور باقی آدھے میں آدھا لیٹر پٹرول ۔۔ اس کی کوئی وقعت ہو سکتی ہے بھلا ؟ اتنا تو رئیس علی ہر وقت اپنے پاس رکھتا تھا ۔۔ نہیں وہ بلیک نہیں کرتا تھا بلکہ وہ تو وائیٹ بھی نہیں کرتا تھا۔۔ کیسے کرتا ۔ ؟ وہ کون سا سیاہ سفید کا مالک تھا۔۔ کیوں نہیں تھا؟ یہ تو سوچنے کی بات ہے بھئی ۔۔ جس کی زندگی میں بلیک یا وائٹ نہیں ہوتا اس کی زندگی بڑی بلیک اینڈ ووائٹ ہوتی ہے ، خوبصورت، خاموش اور بور ۔۔ لیکن رہتے ایسے لوگ “گرے ایریاز” میں ہی رہتے ہیں ۔۔ اور رئیس علی کے تو محلے کا نام بھی “گرے کالونی” تھا۔۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کسی مردار انگریز کی یادگارتھا یہ علاقہ ، چھوٹی لال ، پرانی نیچی سی بیرکوں سے اٹا پڑا۔۔رئیس بچپن سے سنتا آیا تھا کہ یہاں جنگ کے زمانے میں ایمرجنسی ٹائپ کا ہوائی اڈ ہ تھا۔۔ اور بیرکوں میں فوجی رہا کرتے تھے ۔۔ اس نے تو فوج کو ہمیشہ بیرکوں سے باہر دیکھا تھا۔۔ خیر وہ انگریز فوج تھی جو یا بیرک میں ہوتی تھی یا بر صغیر میں ۔ اسی بیرکوں بھری کالونی میں ایک دبنگ افسر تھا میجر جنرل بین گرے ۔۔ اسی بین گرے کے نام پر بنی گرے کالونی کا باسی تھا رئیس احمد جو فقط آدھا لیٹر پٹرول اپنے پاس رکھتا تھا نجانے کیوں ۔۔

اترك رد