پوسٹ – 2016-04-19

لال بیگ – ۳nnگزشتہ سے پیوستہ nn”ہیلو ہیلو۔۔ بول نا۔۔ کیا ہوا اب اپنی منگیتر کے دوپٹے میں چھپ گیا ؟ ۔۔تجھے تو ایک دم سے سچا پیار ہوگیا ہوگا ۔۔اس عورت سے ۔۔ اوہ میرا مطلب یہ لڑکی سے ۔۔ nفون کے اسپیکر سے آتی فرزانہ کی فراٹے بھرتی طعن و تشنیع بھری آواز، عین موقعے پر عینی اور عفان کےبیچ دراڑیں ڈالنے کے موڈ میں لگ رہی تھی ۔۔ اس سے پہلے عینی کچھ کہتی ۔۔ عفان نے فون کا اسپیکر آف کیا۔ ایک نرم سی مسکراہٹ اسکرین کی طرف دیکھ کر اچھالی ۔۔اور کہاn “کیسی ہو فرزانہ۔ شوہر اور بچے ٹھیک ہیں ؟” یہ کہہ کر اس نے اسپیکر پھر سے آن کردیا۔۔ ایک لمحے تواسپیکر چپ رہا ۔۔ لیکن پھر جیسے چندہ مانگنے والے اسپکیر سے لجاحت کا اخراج ہوتا ہے ۔۔ بس اسی طرح ۔ایسے موقعوں پر یا تو آواز ہکلا جاتی ہے ۔ یا موبائل کے سگنل چلے جاتے ہیں اکثر لڑکیوں کے فون پر ایسا ہوتا ہے ۔۔ فیکٹری فالٹ یا پرسنیلٹی فالٹ ۔۔ فرزانہ بھی n” م مم تو کک کک کہنا کیا چاہ رہا ہے ؟ میں بے وفا ہوں ؟ میں نے تیرا انتظار نہیں کیا ؟ والدین کے سامنے کھڑی نہیں ہوئی کہ تو ابھی کیرئر کی کوشش میں لگا ہے ۔۔ کیا کرتی میں ؟ پتا ہے نا میرے شوہر کا “فنانشل اسٹیٹس” تیری اس سات ہزار کی نوکری تھی۔۔ کیسے لڑتی ماں باپ سے کیا کرتی ۔۔ کہہ دے اب مجھے لالچی ، بے وفا۔۔ پیسے کی پجارن ۔۔ بول نا۔۔ بولتا کیوں نہیں ۔۔” ۔۔ ہنہ گھٹیا ، شکی مرد سارے کے سارے ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ “n”میرے کچھ کہنے کی ضرورت بچھی ہی نہیں فرزانہ ۔۔ اور ہاں شکریہ بچوں کو پیار دینا میرا۔۔”n عفان نے کال بند کرے ٹھنڈا سانس بھرا اور عینی کی طرف دیکھنے لگا ۔ جو گفتگو کے اس نشیب و فراز میں آئس کریم فارغ کر چکی تھی ۔۔ “ٹینشن” میں جو آگئی تھی ۔۔ اب کہیں تو اتارنی تھی نا۔۔یہ دن تو گزر گیا۔۔ باتیں سناتے ، وضاحتیں دیتے ۔۔ارے نہیں نہیں ۔۔وضاحتیں عفان عینی کو نہیں دے رہا تھا بلکہ عینی عفان کو دے رہی تھی ۔۔ وہ بھی “فرزانہ” کی طرف سے۔۔ مثلا اگر وہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ )کنگلے عفان کولات مارنے کا( نہ کرتی ، تو اس کے بھی سر میں سفید بال آجاتا ۔۔ اب کہاں سات ہزار میں گزارہ ہوتا ہے۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔ عفان ایک ٹک دیکھے گیا ۔۔اففف یہ لڑکیاں بھی کتنی وضاحتیں دیتی ہیں ۔۔ خیر۔۔ وضاحتیں ، صفائی کا دوسرا نام ہے اور صفائی تو نصف ایمان ہے ۔۔ درست ۔۔لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا کہ صفائی اکثر وہاں کرنی پڑتی ہے ۔۔ جہاں گندگی یا ناپاکی ہو۔ یا کم از کم دھول مٹی ہی ہو۔۔ تو رشتوں میں پڑی دھول کو جھاڑنے سے پہلے کم از کم سر کو تو جھکاو ۔۔ پھر وضاحتیں دو۔۔ اور وہ بھی جب مانگی جائے ۔۔عفان نے کہیں پڑھا تھا کہ جب کوئی بارہا کسی چیز کی وضاحت کرے ، بار بار دہرائے تو اس کو ایک قول کے ترازو میں تولو ۔ ایک فلاسفر کہتا ہے اور ٹھیک ہی تو کہتا ہے ۔n” اس نے ایک دفعہ کہا میں نے مان لیا۔۔ اس نے دوسری دفعہ کہا مجھے شک گزرا ۔۔ جب اس نے تیسری بار کہا تو مجھے یقین ہوگیا کہ وہ جھوٹ بول رہاہے “۔۔nn – جاری ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.