پوسٹ – 2020-06-20

جب کسی کمپنی کے ارکان میں ، سوائے ، انسان نما دکھنے کے ، کوئی قابل ذکر چیز نہ ہو ، کوئی ہنر نہ ہو ، کوئی ٹیلنٹ نہ ہو ، تو کمپنی کے کرتا دھرتا کھوتے n”میں تو انسانوں کو اہمیت دینے پر یقین رکھنے والوں میں سے ہوں “nجیسے چغلے ہوئے ، جگالی ذدہ باتیں کرنے کے علاوہ کچھ نہں کرسکتے nبالکل اسی طرح ، جس کمپنی کے میمبران ، ایک سے ایک ہیرا ہو ، ایک سے ایک ، لکھاری ہو، نو آموز ، ماہر ، چھوٹی سی عمر میں ، آرگنائز کرنے کی اہلیت سے مالا مال ہو، ہر ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ ، بہترین اور چنا ہوا ہو ، تو “انسانیت” اور “اہلیت” کے صدقے ، ایسے افراد پر غرور کیوں نہ کیا جائے ؟
جب نااہل ، اور ذہنی معذروں کو ، انسانیت کے ریڑھے پر ڈال کر ، ہمدردی مانگی جا سکتی ہے ، اور اسے “کمپنی چلانا” کہا جاسکتا ہے تو، واقعتا، اہل افراد کے بل پر ، غرور کیوں نہیں جا سکتا ؟
اور ہاں سوچنے کی بات ہے ، کمپنی کے ان ہیرا افرادکو ، کمپنی کے تاج کا کوہ نور بنانے میں ، محنت کس کی ہے ۔۔ ؟
جی ، وہ ٹیم واقعی ، پھر ، فخر و غرور ، کی اہل ہے
نوٹ: غرور پر ، اسلام فروشی سے گریز کریں ، لغت کھینچ کر ماروں گا منہ پر۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.