پوسٹ – 2020-09-24

اس وقت صرف، دو تین کام ہیں، جو اسموک سکرین کے بجائے، اب ذرا کھلے میں ہو رہے ہیں۔
سیاسی نظام سے عوام کو مکمل مایوسی کر دینا
آنے والے مزید دس پندرہ برسوں کے لیے محض ‘اپنی’ ری برانڈنگ
درباری /مذہبی / پالشیت کا فروغ( جس میں پورا پورا تعاون حاصل ہے ، سیاسی/فرقہ پرست مولویوں کا، nاس کا ممکنہ نتیجہ/ہدف
ابھی جو بچے۔ اسکول کالجوں میں ہیں، وہ جب کل کو تیس کے پیٹے میں داخل ہونگے، تب وہ محض تین تھاٹ پیٹرنز رکھتے ہوں گے۔nnکرپٹ صرف سیاست دان ہے
حب الوطن صرف فوج ہے
مذہب محض افیون ہے، اس لیے ،دین سے بھی دور ہوجاو۔nnیہ سب ہوتا رہا تو، آج سے دس پندرہ سال بعد،
ہم گذشتہ دس برس (دوہزار آٹھ سے، دوہزار اٹھارہ تک)nریپیٹ ہوتے دیکھیں گےnnوجہ ؟کسی بھی معاشرے میں، سازشی ذہن (ہماری زبان میں، سٹریٹیجک ڈیپتھ) کی اپنی بقا، اجتماعی (قوم کی)، ترقی معکوس میں ہے، اسی لیے، وہ۔ معاشرے کو ترقی کی راہ پہ، نہیں پڑنے دیتا۔nnحل
اپنے بچوں کو، بیلنس تھنکنگ، کمیونی کیشن، کنفلکٹ ریزولوشن، nسماجیات، نفسیات، کی طرف مائل کریں۔
مذہب سے مکمل دور کردیں، دین سے قربت کی طرف مائل کریں
مذہب میں عالم گیریت نہیں، دین میں آفاقیت ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.