پوسٹ – 2022-04-03

ڈاکٹر اسرار احمد کا یوٹیوب چینل ڈیلیٹ ہونے پہ، وہ لوگ سب سے زیادہ شور کررہے ہیں جنہوں نے کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھا ہوگا
اگر اتنے جوگے ہو تو، گھر میں رکھی تفاسیر سے استفادہ کرلو، کتاب کے مطالعے پہ تو روک نہیں ہے نا ؟
تھوڑی محنت ہمت کرو، ویڈیو کے بجائے مطالعہ کی مشقت اٹھاو، صرف رنجی رونا کرنا آسان ہے۔ اور اگر
تھوڑی سی عقل سلامت ہے تو بیان القران نامی ایپ ڈاون لوڈ کرلو موبائل میں۔۔
اور اتنے معتبر ہو تو پاکستانی OTT پلیٹ فارمز پہ ، یا پھر nلوکل انٹرنیٹ شیئرنگ سائٹس پہ
میں اسلامک سیکشن بنواو اور اس میں
پہ ڈاکٹر صاحب کی وڈیوز اپ لوڈ کرواو مثلا، nاسٹارز پلے nتماشا nٹیپ میڈ
زونگ ٹی وی
اور بھی بہت کچھ ہیں
لیکن نہیں۔۔
احتجاج زیادہ آسان ہے ۔۔nnمعاشروں کی عمومی نفسیات ہوتی ہے خصوصا پاکستان جیسے معاشروں کی ،جو نہ کام کے ہوں، نہ کاج کے وہ ، غیر ضروری طور پر sensitive ہوتے ہیں، nجذبات فورا ہرٹ ہوجاتے ہیں ایسی اقوام کے ، خوام خواہ کی triggeringہوتی رہتی ہے ، کیوں کہ بے عمل ہوتے ہیں
ان چیزوں کو لے کر ،جن پہ نہ ان کا زور چلتا ہے، اور جن پہ نہ ان کی ملکیت ہوتی ہے، اور جس کو حاصل کرنے کے alternative بھی موجود ہوتے ہیں، لیکن چونکہ متبادل محنت مانگتا ہے، تردد کرنا پڑتا ہے، تو بس ، آسان فیصلہ یا چوایس کی طرف چلے جاتے ہیں جسے ‘رنجی رونا’ کہتے ہیں کیوں کہ as a nation قبضہ گروپ بن چکے ہم۔۔۔ہر ٹیکنالوجی ، ہر پلیٹ فارم پہ divine right سمجھتے ہیں۔۔
لیکن خود کچھ نہیں کرنا۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.