کئی دفعہ کا ذکر ہے nn۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔nn”ناراض ہو ؟”nاک لفظ نے اس نے جھنجھوڑا تھا۔
وہ، اندھیرے کمرے کو ، سگریٹ کی کڑوی روشنی سے اذیت دے رہا تھا
پنکھے کی گرم ہوا، اس کا ارتکاز توڑنے میں ہلکان ہوئی جا رہی تھی، چہار سو خاموشی نے، جیسے اس کے اندر قبرستان آباد کردیا تھا۔ nسکون تھا کہ ، ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اس سے لپٹا جا رہا تھا، ایش ٹرے میں ادھورے ٹوٹے اپنی ادھ کشیدی تلخیوں سمیت، اس کی بےنیازی پی ماتم کناں تھا
جب اس کے برابر پڑے کاغذوں کی پھڑپھڑاہٹ نے، اس اندھیرےکمرے، کے سناٹے اور اس کے ذہن پہ، سوال دے مارا، اسے لگا وہم ہے، سگریٹ کا آخری کش ، اس سوال نے مزید کڑوا کردیا تھا، اس نے ایش ٹرے میں سگرٹ مسل کر ادھر ادھر دیکھا، nکوئی نہیں تھا
پنکھے اور کاغذ کی پھڑپھڑاہٹ تھی،۔۔۔۔ nوہ دوسری سگریٹ سلگانے لگا، کہ پھر ممناتی سی آواز آئی
ناراض ہو nاب کی بار آواز صاف تھی۔
اس نے ٹیبل لیمپ آن کیا ، اندھیرا سسکاریاں لیتا چھٹنے لگا، روشنی ملگجی ہی سہی، اندھیرے کو زخمی کرنے کے لیے کافی تھی۔
اس نے کاغذ کو کونے سے پکڑ کر اٹھایا، اور کانوں سے لگا کرسننا چاہا
بولتے کیوں نہیں، کاغذ پہ لفظ ابھر رہے تھے، nوہ مسکرانے لگا۔
ہم اداس ہیں، اور تم ناراض کوئی غلطی ہوگئی۔۔
اس نے سر جھٹکا اور کاغذ کو، پھاڑنے لگا تھا ۔۔۔
اچھا کم از کم ناراضگی کی وجہ بتا دو۔۔۔
ایک اور سوال ابھرا تھا۔۔ nکیا غلطی ہے، کیوں خشک ہو
کیوں لاپروا ہو
کیسے مارے مارے پھرتے ہیں ہمارے پیچھے سب
اور ایک تم ہو۔
کہ کوئی پروا ہی نہیں، کچھ تو کہو
کاغذ کی پیشانی سے سطریں روا تھیں۔۔
اچھا کچھ لکھ ہی دو اچھا برا دقیانوسی روایتی سطحی کچھ بھی چلے گا
لفظ سسک رہے تھے، nاچھا کمرے کا حال لکھ دو
اندر کا موسم بیان کردو
ڈائری میں پناہ دے دو
ادھورا چھوڑ دینا
پورا مت کرنا، پر کچھ ایک آدھ سطر، ایک ابتدائیہ ہی سہی، nتخلیق اندھی ہو رہی روشنی دو نا پلیز
اس نے یہ سب پڑھا۔
کمرے کی مٹیالی روشنی میں کاغذ کو پلٹ کر nایک جملہ لکھا nاور لائٹر اٹھا کر، کاغذ کو آگ دکھا دی
لفظوں کے تڑخنے کی آواز آنے لگی
کمرے میں بو پھیل گئی، الفاظ کی چیخیں ، راکھ بنتی جا رہی تھیں۔
اس نے کاغذ کو کونے سے پکڑ ے پکڑے ایش ٹرے میں مسل دیا nاور دوبارہ سگریٹ سلگا لی
ملجگی سی روشنی میں، راکھ ہوجانے والے کاغذ کا، آخری کونا سلامت نظر آرہا تھا، جس پر لکھی سطر واضح تھیn’ ایک دفعہ کا ذکر تھا، تمام الفاظ مر گئے۔’nپنکھے کی گرم ہوا اب سکون بخش رہی تھی اس نے اندھیرا کیا، سگریٹ سلگائی، اور سکون سے آنکھیں بند کرلیں۔
اس کے کانوں میں، الفاظ کی کراہیں گونج رہی تھیں
وہ جلتے جلتے بھی
اسے ‘تھینک یو ‘ کہنا نہیں بھولے تھے
اس نے سرجھٹکا ، لب بھینچ کر مسکرایا، اور سونے کی تیاری کرنے لگا۔۔
پوسٹ – 2022-02-17
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد