ایک چیز نوٹ کیجیے گا۔۔nnآپ کے ساتھ کوئی شخص بدسلوکی کرے
خواہ وہ گالی کی صورت میں ہو
آپ کی بات کو توڑ موڑ کر بیان کرنے کی صورت میں
ہو یا غیبت کی صورت میں
آپ کا حق(مزدوری) کھانے کی صورت میں ہو
آپ کی غیبت کی صورت ہو وغیرہ وغیرہ۔
یعنی اس نے عملا ایک برا کام کیا،
لیکن جونہی آپ اس کے شر سے دوسرے کو بچانے کے لیے یا محض اپنے دکھ کو بیان کرنے کے کیے ، اپنا catharsisکرنے کے لیے، اس کے برے عمل کا محض ‘تذکرہ بھی ‘ برے الفاظ میں کریں۔۔ یعنی nکسی نے چوری کی، تو چور کو کہیں
بدکاری کی تو بدکار کہیں
کسی نے آپ کی شخصیت پہ جھوٹ کے ذریعے حملہ کیا تو اسے جھوٹا کہیں۔۔
یعنی اس کے برے عمل سے نقصان اٹھانے کے بعد nاس کا تذکرہ اسی عمل سے متعلق ‘لفظ’ میں سمو کر ، کریں۔
تو یہ معاشرہ یا خود وہ شخص ۔۔۔
آپ کو بدکلام / تلخ ہونے کا داغ لگا دیتا ہے۔
چہ جائیکہ اس عمل پہ بات کرے ، جو دوسرے شخص نے کیا ہے، اور اس پہ فوکس کرے کہ ایسے عمل کے اثرات کتنے منفی ہیں۔۔ لیکن نہیں غور کرنا ہے تو اس ‘لفظ’ پہ ، کہ وہ کانوں کو برا لگتا ہے، اور لتاڑنا ہے تو اسے، جو وہ لفظ ادا کرتا ہے ۔
وجہ ؟
تبلیغ کرنا آسان ہے
گالی نہ دو
برے کو برے الفاظ میں یاد نہ کرو
وغیرہ وغیرہ
لیکن اس شخص کو برے عمل سے روکنا نسبتا مشکل کام ہے۔۔۔ nاور انسانی دماغ/ نفسیات پروگرامڈ ہے، آسان فیصلوں پہ مائل ہونے کے لیے۔۔۔
کیوں کہ مشکل فیصلوں میں تردد زیادہ
تو پھر برا بھلا کہنے والے کو برا بھلا کہہ کر اپنے بے حس ضمیر پہ لیپا پوتی کردو۔۔nnقصور وار۔۔۔ وہ طبقہ جس نے nمذہب اور ‘لوگ کیا کہیں گے’ کو مکس کرکے ، حقوق العباد کا یکطرفہ چورن بیچا
پوسٹ – 2022-01-23
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد