تصور میں ٹمٹماتی حنائی ہاتھوں کی خوشبو نے ولید کے اندر کا رومان پرور مرد جگا دیا تھا
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور نیلم منیر مم میرا مطلب نیلوفر کی تصویر کے سامنے دو زانو ہو گیا۔۔
اسے اپنی نوبیاہتا کے سامنے ایسے بیٹھنا۔ پسند تھا ۔ بس چپ چاپ دیکھے جاتا ۔۔ محسوس کیے جاتا۔۔ nآج وہ سامنے نہیں تھی تو کیا ہوا اس کی تصویر ہی صحیح
یہ ولید کی محبوب ترین تصویر تھی
ابتدائی دنوں میں کھلکھلاہٹ کو کیمرے نے کچھ اس طرح اپنی قید میں لیا تھا نیلو کا ایک گال پر مہندی کا دھبہ اور دوسری پر اس کا حیرانی آمیز کھلکھلاہٹ تھی۔ nجس میں مصنوعی غصہ بھی تھا
عورت تھی ۔۔۔ جذبات کا اظہار روشنائی اور چہرہ کینوس ۔
ولید نے پیار سے اس کے چہرے کو مہندی سے داغدار کیا تھا۔۔nnوہ کہتا تھا کہ میرا بس چلے تو تمیں مجسم مہندی کردوں nاور پھر تمھارے روم روم سے مہندی کی خوشبو پھوٹے ۔۔ نیلو فر کو بھی مہندی بہت پسند تھی کہ وہ اس کا دلہناپا تازہ رکھتی تھی۔۔
آج ولید اسی تصویر کےسامنے دوزانو بیٹھا تھا۔۔
فرق صرف اتنا تھا کہ اس کے موبائل میں جو دوسری تصویر تھی ۔۔۔اس میں بھی نیلو کے گالوں پہ ایک ہاتھ تھا۔
جو مہندی مل رہا تھا اور مایا علی خانnn مم میرا مطلب نیلو اسی انداز میں کھلکھلا رہی تھی جس سے مصنوعی غصے کا اظہار بھی ہوتا تھا۔۔
پر وہ ہاتھ۔۔n ولید کا نہیں۔ تھاnnآج مہندی کا پریم رنگ۔۔۔ خون رنگ شب میں بدلنے کو تھا۔nnولید نے سامبے رکھی تصویر کے چہرے کو مسخ کردیا اور پھر ڈلیٹ۔۔۔ اب شاید رشتے کی باری تھی۔۔
تعلق تو کب کا تعزیہ ہو چکا تھاnnوہ اٹھا اور اپنے بزنس پارٹنر جہانزیب کے فارم ہاوس کی طرف روانہ ہوگیا
کار کے ڈیش بورڈ میں بھرا ہوا پستول ہمیشہ موجود رہتا تھاnnاس کے سانسوں کی لرزش اس قدر واضح تھی کہ میں یہ فیصلہ نہ کر پا رہا تھا کہ میری شہ رگ پہ ابلتا خون سرسرا رہا ہے یا اس کی لال چنری nدوری کی دھار کچھ ایسی ہی تیز اور ٹھنڈی آگ سی ہوا کرتی یے یہ خونچکاں خیال مجھے سرگن مہتا۔ مم میرا مطلب نیلو فر کے دور ہونے کے بعد ستا رہا تھا nاب جب کہ شاید اس ہے نصیب میں سمندر پار کی خنکی تھی اور میرے ذہن سے اس کی یادں دھندلی پڑتی جا رہی تھیں nیا شاید یہ موت کا پہرے دار تھا جو زقندیں بھرتا میرے وجود ک آخری آماجگاہ بنانے آرہا تھاnnٹھیک ہی تو ہو رہا تھا میرے ساتھ۔۔ نیلم منیر مم میرا مطلب، نیلوفر nقربت میرے لیے موت کا پیام ثابت ہوئی تھی
شجر ممنوعہ کو صرف سونگھنے کا اتنا تباہ کن نتیجہ نکلا تھا کہ ہم دونوں ہی سرعت سے دور ہوتے چلے گئے nولید کے پستول سے نکلی آخری گولی میری شہہ رگ پار کر گی تھی دھندلاتی آنکھوں سے میں نے دیکھا تھا کہ اس کا کرچی وجود اس کی لال چنری میرے خون سے بھیگی گھسٹتی چلی گئ تھی
میری نیلو نے اپنے شوہر ولید کی آہنی گرفت میں مچلتے ہوئے جن نظروں سے میری طرف دیکھا تھا ان سےکے ایک ہی مطلب نکلتا تھاnnمیں کہتی تھا نا قریب ائے تو جھلس جاییںnnفارم ہاوس پہ اترتی شام میری ٹھنڈی ہوتی بے راہ رو زندگی پر ماتم کناں تھی۔۔۔nn- میں اور میری بھرپور بغیرتیاں سے اقتباس
پوسٹ – 2022-01-13
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد